(وسیم عظمت) اسرائیل کی فوج نے فلسطین کے تاریخی علاقہ الخلیل/ ھیبرون میں اسرائیلی فوجیوں پر حملہ کرنے میں ملوث بتائے گئے دو فلسطینیوں کے گھر آج مسمار کر دیئے۔ اس عمل کے دوران سینکڑوں فلسطینی گھرانوں کو علاقہ سے نکلنے پر مجبور کیا گیا، کئی گرفتاریاں ہوئیں اور کئی افراد زخمی ہو گئے۔ اس سے پہلے اسرائیلی فوج اپنے دو اہلکاروں کو مارنے میں شامل دو فلسطینیوں کو مار چکی تھی۔
اقوام متحدہ نے الخلیل کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ الخلیل میں گزشتہ ایک ہفتے سے پانچ ہزار فلسطینیوں کے گھر محاصرے میں تھے اور سات سو سے زیادہ فیملیاں بے گھر کی جا چکی تھیں۔
الخلیل (Hebron): واقعات کی زمانی ترتیب، 23 تا 30 اکتوبر 2026ء
الخلیل میں گزشتہ ہفتے جو کچھ ہوا، اسے سمجھنے کے لیے تین نمایاں مراحل سامنے آئے: ابتدائی فائرنگ کا واقعہ، اس کے بعد اسرائیلی فوج کی کارروائی، اور فلسطینی آبادی کی بڑے پیمانے پر بے دخلی و نقل و حرکت پر پابندیاں۔ تازہ دستیاب رپورٹوں کے مطابق فوجی کارروائی 30 اکتوبر کو آٹھویں روز میں داخل ہو چکی تھی۔
جمعہ، 23 اکتوبر: ابتدائی فائرنگ
الخلیل کے علاقے فرش الہوا (Farsh al-Hawa) کے قریب ایک اسرائیلی فوجی چیک پوسٹ پر دو فلسطینی مسلح افراد نے فائرنگ کی۔
دو اسرائیلی فوجی اس اچانک حملے میں ہلاک اور تین زخمی ہوئے۔
اسرائیلی فوج نے دونوں حملہ آوروں کو بعد میں ہلاک کر دیا۔
اسرائیلی حکام نے کہا کہ حملہ آوروں کی گاڑی سے ہتھیار ملے اور ان کا ارادہ اسرائیلی شہریوں پر حملہ کرنے کا تھا۔ یہ اسرائیلی فوج کا بیان تھا؛ اس کے ساتھ آزادانہ طور پر تصدیق شدہ تفصیلات کو الگ رکھنا ضروری ہے۔یہ وہ واقعہ تھا جس کے بعد الخلیل میں وسیع فوجی کارروائی شروع ہوئی۔
23 اور 24 اکتوبر: شہر کی ناکہ بندی اور گھروں سے انخلا
اسرائیلی فوج نے الخلیل کے داخلی و خارجی راستے بند کیے اور چیک پوسٹوں پر نقل و حرکت محدود کر دی۔ وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے شہر کو بند کرنے اور مزید سخت کارروائی کا اعلان کیا۔
خاص طور پر دو علاقے متاثر ہوئے: ان علاقوں میں فوج نے رہائشیوں کو گھر خالی کرنے کی ہدایات دیں۔ بعض فلسطینی گھرانوں کو رات کے وقت نکلنا پڑا، جبکہ کچھ گھروں پر فوج نے قبضہ کرکے انہیں فوجی چوکیوں یا بیرکوں میں تبدیل کر دیا۔
24 اکتوبر کی ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ کے مطابق، الخلیل کی بلدیہ نے بتایا کہ دیر بحّہ اور اس کے آس پاس کے چار محلوں سے راتوں رات تقریباً 200 سے 300 خاندان بے گھر ہوئے۔ لوگ شہر کے دوسرے حصوں میں رشتہ داروں کے پاس منتقل ہوئے۔
24 تا 26 اکتوبر: روزمرہ زندگی مفلوج ہو گئی
ھیبرون میں ناکہ بندی کے اثرات صرف ان خاندانوں تک محدود نہیں رہے جنہیں گھر چھوڑنا پڑا۔ گاڑیوں کی آمدورفت بند یا محدود ہونے کے باعث بعض لوگوں کو پیدل فوجی گیٹ عبور کرکے دوسری طرف ٹیکسی لینی پڑی۔
علاج کے لیے ہسپتال جانے والوں اور کام پر جانے والے افراد کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ زیتون کی فصل کی کٹائی کے موسم میں کسان اپنی زمینوں تک نہیں پہنچ پا رہے تھے۔
ابراہیمی مسجد (مسجد ابراہیمی) بھی بند کر دی گئی، جس کے باعث جمعے کی نماز ادا کرنے والے نمازی متاثر ہوئے۔
26 اکتوبر کو اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے وسیع پابندیوں، گھروں کی ممکنہ مسماری اور فلسطینیوں کی بے دخلی پر شدید تشویش ظاہر کی۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے ان اقدامات کو فلسطینیوں کی نقل و حرکت، بنیادی خدمات اور روزگار تک رسائی کے لیے سنگین مسئلہ قرار دیا۔
25 تا 27 اکتوبر: فوجی کارروائی میں توسیع اور سیاسی ردعمل
اسرائیلی قیادت نے حملے کے جواب میں مزید سخت اقدامات کا اعلان کیا۔
نیتن یاہو نے کہا کہ الخلیل میں کارروائی کی جائے گی اور علاقے کو تبدیل کر دیا جائے گا۔
وزیر خزانہ بیزلیل سموٹریچ نے بغیر اجازت تعمیر شدہ فلسطینی عمارتیں گرانے کی دھمکی دی، اگرچہ ان عمارتوں کے مالکان کو ابتدائی فائرنگ سے جوڑنے کا ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔
وزیر قومی سلامتی اتمار بن گویر اور وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے بھی سخت کارروائی کی حمایت کی۔
یہ بھی پڑھیئے: اسرائیلی فوج نے غزہ میں حماس کے دو سرگرم کارکنوں کو مارنے کا اعتراف کر لیا
ایسوسی ایٹڈ پریس نے اس وقت یہ سیاسی تناظر بھی بیان کیا کہ اسرائیل میں 27 اکتوبر کے انتخابات قریب تھے اور دائیں بازو کے رہنما سلامتی کے معاملے پر سخت مؤقف دکھا رہے تھے۔ یہ سیاسی پس منظر ہے، اس بات کا ثبوت نہیں کہ فوجی کارروائی کی واحد وجہ انتخابی مہم تھی۔
27 اکتوبر کو الخلیل میں اپنے گھروں سے بے دخلی کے خلاف فلسطینی رہائشیوں کا احتجاج بھی تصویروں میں ریکارڈ ہوا۔ رائٹرز کی تصاویر میں فلسطینی شہریوں اور اسرائیلی فوجیوں کا آمنے سامنے ہونا دیکھا جا سکتا ہے۔
28 اکتوبر: صحافیوں پر آبادکاروں کا حملہ
الخلیل کے گرد و نواح میں آبادکاروں کے تشدد کی بھی اطلاعات سامنے آئیں۔
الجزیرہ کی 29 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق، ایک روز پہلے یعنی 28 اکتوبر کو آبادکاروں نے تین غیر ملکی صحافیوں پر حملہ کیا تھا۔ ان میں ایندرے الیچ خرژانوفسکی، جو ایندرے ایکس کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں، ایڈیل شوکو اور جیسپر نیتھنیئل شامل تھے۔
رپورٹ کے مطابق ایندرے ایکس بے ہوش ہو گئے، انہیں پولیس سٹیشن لے جایا گیا اور ان کے بارے میں بتایا گیا کہ انہیں طبی امداد نہیں دی گئی۔ یہ واقعہ الخلیل کے گردونواح میں فلسطینی آبادیوں اور وہاں رپورٹنگ کرنے والوں کے لیے بڑھتے ہوئے خطرات کی ایک الگ مثال ہے۔
جمعرات، 29 اکتوبر کو ہیبرون میںفلسطینیوں کے یادگاری نشانات کی مسماری اور مزید گرفتاریاں سامنے آئیں۔ کل کی کارروائی میں کئی نمایاں واقعات رپورٹ ہوئے۔
دورا میں فلسطینیوں کی یادگاری دیوار منہدم کر دی
اسرائیلی فوج نے دورا میں فلسطینی شہیدوں کی یاد میں بنائی گئی دیوار کو بلڈوزر سے گرا دیا۔ اس انہدامی کارروائی کے دوران آنسو گیس استعمال کیے جانے کی بھی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔
باب الزاویہ میں دکانیں بند کروا دیں
الخلیل کے مرکزی تجارتی علاقے باب الزاویہ کو بند کیا گیا، دکانداروں کو کاروبار بند کرنے پر مجبور کیا گیا اور متعدد دکانوں کے اوپر موبائل یونٹس نصب کیے گئے۔
شہر کے جنوبی حصے میں دوسری مسماری
الصاحب سکوائر کے قریب فلسطینی شہیدوں کا ایک اور یادگاری نشان مسمار کیا گیا۔
اسی روزاسرائیلی فوج کے ساتھ مزاحمت کے دوران دو فلسطینیوں کے زخمی ہونے اور سات افراد کی گرفتاری کی رپورٹ بھی سامنے آئی۔ گرفتار کیے گئے افراد میں شہر کے رہائشی اور یطا کے قریب اپنی زمین پر ہل چلاتے ہوئے گرفتار ہونے والے دو بھائی شامل تھے۔
جمعہ، 30 اکتوبر: دونوں حملہ آوروں کے گھر دھماکے سے تباہ کر دیئے گئے
یہ تازہ ترین اور اہم پیش رفت ہ آج ہوئی ہے کہ جن دو لوگوں کو اسرائیلی حکام نے یہودی آبادی پر حملہ کرنے میں ملوث قرار دیا ان کے گھروں کو مسمار کر دیا گیا۔
الجزیرہ نیوز کی 30 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی فوج نے دونوں فلسطینی حملہ آوروں، حمودہ الجعبہ اور احمد الجعبہ، کے گھروں کو بارودی مواد کے دھماکوں سے تباہ کر دیا۔
آج کے واقعات کی کرونولوجی یہ ہے:
آج صبح فوج نے دونوں گھروں کے گرد محاصرہ سخت کیا۔
الجلدة اور عین دیر بحّہ کے علاقوں میں مزید فوجی نفری اور گاڑیاں پہنچائی گئیں۔
عین دیر بحّہ میں درجنوں فلسطینیوں کو گھروں سے نکلنے پر مجبور کیا گیا۔
گھروں کی تلاشی اور گھروں کےاندر کھدائی کی آوازیں سنائی دینے کی اطلاع آئی۔
شام کو دونوں گھروں کو بارودی مواد کے دھماکے سے تباہ کر دیا گیا۔
آج 30 اکتوبر تک مجموعی صورتِ حال
مختلف رپورٹوں میں اعداد کا فرق ہے، کیونکہ بعض رپورٹوں میں صرف بے گھر کیے گئے فلسطینیوں کی تعداد بتائی گئی ہے اور بعض رپورٹیں محصور خاندانوں کو بھی آپریشن کے متاثریں میں شامل کرتی ہیں۔
تازہ رپورٹ شدہ تعداد کے مطابق بے گھر کیے گئے افراد کی کل تعداد 3,361 ہے۔
متاثرہ یا محصور خاندان تقریباً 780 بتائے جا رہے ہیں۔
بے گھر یا محاصرے میں پھنسے افراد کا بلدیاتی تخمینہ تقریباً 5,000 ہے۔
الخلیل میں گرفتار فلسطینیوں کی تعداد 110 یا اس سے زیادہ ہے۔
یہ اعداد 29 اور 30 اکتوبر کی عرب میڈیا کی رپورٹوں میں مختلف متعلقہ اداروں کے حوالے سے سامنے آئے ہیں۔
اس پوری کرونولوجی سے کیا نتیجہ نکلتا ہے؟
الخلیل / ہیبرون کا ابتدائی واقعہ محدود جغرافیائی مقام پر فائرنگ کا تھا، لیکن اس فائرنگ کے جواب میں اسرائیل کی فوج کی تادیبی کارروائی پورے الخلیل کے علاقے تک پھیل گئی۔
کارروائی کا دائرہ مشتبہ فلسطینی حملہ آوروں تک محدود نہیں رہا۔ ناکہ بندی، گھروں کا فوجی استعمال، شہریوں کی بے دخلی، دکانوں کی بندش اور یادگاری نشانات کی مسماری بھی اس کا حصہ بنے۔
30 اکتوبر تک کارروائی ختم ہونے کے بجائے مزید آگے بڑھی۔ حملہ آوروں کے گھر تباہ کیے گئے اور مزید رہائشیوں کو نقل مکانی پر مجبور کیا گیا۔
اقوام متحدہ نے ان پابندیوں اور بے دخلی کے خطرے پر تشویش ظاہر کی ہے۔ تاہم یہ کہنا کہ تمام اقدامات کا قانونی فیصلہ ہو چکا ہے، درست نہیں ہوگا۔ دستیاب رپورٹوں میں ان کے اثرات واضح ہیں، جبکہ ہر انفرادی اقدام کی قانونی حیثیت کا حتمی تعین الگ سوال ہے۔
اب یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا یہ کارروائی صرف 23 اکتوبر کے حملے کے جواب میں ایک محدود فوجی آپریشن ہے، یا اس کے ذریعے الخلیل کے مخصوص فلسطینی محلوں کی آبادی اور جغرافیے کو مستقل طور پر بدلنے کی کوشش ہو رہی ہے؟ آٹھ دن کی ناکہ بندی، گھروں کو بیرکوں میں بدلنے اور ہزاروں افراد کی بے دخلی کے شواہد اس سوال کو سنجیدہ بناتے ہیں، لیکن اسرائیل کی طرف سے ہیبرون میں فلسطینیوں کی مستقل نقل مکانی کا ارادہ اب تک تسلیم نہیں کیا گیا۔ اسے ثابت کرنے کے لیے مزید شواہد درکار ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیئے:نارتھ کوریا کی جدید ڈرون اور اے آئی ٹیکنالوجی نے تشویش کی نئی لہر دوڑا دی

