ویٹیکن نے تصدیق کی ہے کہ پوپ لیو چہاردہم نے امریکہ کے وسط مدتی انتخابات کے لیے ڈاک کے ذریعے اپنا ووٹ جمع کروا دیا ہے، جس کے بعد وہ امریکی عام انتخاب میں ووٹ دینے والے پہلے پوپ بن گئے ہیں۔ ویٹیکن کے مطابق شکاگو میں پیدا ہونے والے پوپ نے اپنے آبائی علاقے الینوائے میں میل بیلٹ جمع کروائی۔
ویٹیکن کے بیان میں کہا گیا کہ پوپ لیو چہاردہم جمہوری عمل میں شہریوں کی شرکت کو نہ صرف حق بلکہ ذمہ داری بھی سمجھتے ہیں۔ پوپ امریکی شہری ہیں اور شکاگو کے نواحی علاقے نیو لینوکس میں رجسٹرڈ ووٹر ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ تاریخ میں بے مثال ہے، کیونکہ اس سے قبل کسی برسرِ منصب پوپ نے سیکولر جمہوری انتخابات میں ووٹ نہیں ڈالا تھا۔ تاہم ویٹیکن نے یہ ظاہر نہیں کیا کہ پوپ نے کس امیدوار یا جماعت کو ووٹ دیا۔
پوپ لیو چہاردہم مئی 2025ء میں رابرٹ فرانسس پریووسٹ کے نام سے پوپ بنے تھے اور وہ پہلے امریکی نژاد پوپ ہیں۔ ان کا یہ اقدام امریکی سیاست اور ویٹیکن کے کردار پر نئی بحث چھیڑ گئی ہے۔

