امریکہ: وال اسٹریٹ جرنل کے خلاف ٹرمپ کا ہتک عزت کا مقدمہ مستقل طور پر خارج

tower 290826 d 1


واشنگٹن: امریکی وفاقی جج نے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا وال اسٹریٹ جرنل اور اس کے مالک روپرٹ مرڈوک کے خلاف 10 ارب ڈالر کا ہتک عزت کا مقدمہ مستقل طور پر خارج کر دیا ہے۔
جج ڈیرن پی گیلز نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ٹرمپ یہ ثابت کرنے میں ناکام رہے کہ اخبار نے جیفری ایپسٹین کو مبینہ طور پر لکھے گئے جنسی نوعیت کے سالگرہ خطے کی رپورٹنگ شائع کرتے وقت جان بوجھ کر یا لاپرواہی سے غلط معلومات پیش کیں۔ امریکی قانون کے تحت عوامی شخصیت کو ہتک عزت کے دعوے میں یہ ثابت کرنا ضروری ہوتا ہے کہ اشاعت “actual malice” یعنی حقیقی بدنیتی کے ساتھ کی گئی۔
جج نے ٹرمپ کی اس دلیل کو بھی مسترد کر دیا کہ صدر کے خط لکھنے سے انکار کے بعد اخبار کو رپورٹ شائع نہیں کرنی چاہیے تھی۔ انہوں نے لکھا کہ اگر یہی اصول مان لیا جائے تو ہر بار جب کوئی عوامی شخصیت کسی الزام سے انکار کرے، صحافیوں کو متضاد یا منفی رپورٹس شائع کرنے سے روک دیا جائے گا، جو پہلی ترمیم کے تحفظات کے منافی ہوگا۔
یاد رہے کہ وال اسٹریٹ جرنل نے جولائی 2025 میں رپورٹ شائع کی تھی کہ جیفری ایپسٹین کی 50ویں سالگرہ کے لیے تیار کردہ البم میں ٹرمپ کے نام سے ایک جنسی نوعیت کا خط شامل تھا۔ ٹرمپ نے خط لکھنے سے انکار کیا تھا اور اخبار پر جھوٹی رپورٹنگ کا الزام عائد کیا تھا۔
پہلی بار اپریل 2026 میں بھی یہی جج نے مقدمہ خارج کیا تھا، مگر ٹرمپ کو نظرثانی شدہ شکایت دائر کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔ اس بار جج نے کہا کہ نظرثانی شدہ شکایت قانونی خامیوں کو دور نہیں کر سکی، اس لیے مقدمہ “with prejudice” یعنی مستقل طور پر خارج کیا گیا۔ اس کے بعد ٹرمپ اسی الزام پر اسی وفاقی عدالت میں دوبارہ مقدمہ دائر نہیں کر سکتے۔
ڈاؤ جونز کے ترجمان نے عدالت کے فیصلے پر اطمینان کا اظہار کیا، جبکہ ٹرمپ کی قانونی ٹیم نے اشارہ کیا ہے کہ وہ فیصلے کے خلاف اپیل کر سکتی ہے۔

متعلقہ پوسٹ