امریکی وسط مدتی انتخابات: ڈیموکریٹس نے کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اکثریت حاصل کر لی

us midterm d


واشنگٹن: ۳ نومبر کے وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی نے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کو بڑا جھٹکا دیتے ہوئے ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ، دونوں میں اکثریت حاصل کر لی ہے۔ اس طرح ٹرمپ کی دوسری مدت کے باقی ۲ برس کے لیے اقتدار کا توازن بدل گیا ہے۔
انتخابات سے پہلے سینیٹ میں ریپبلکنز کے ۵۳ اور ڈیموکریٹس و اتحادی آزاد ارکان کے ۴۷ ارکان تھے، جبکہ ایوانِ نمائندگان میں ریپبلکنز کو ۲۱۹ کے مقابلے میں ڈیموکریٹس کی ۲۱۴ نشستیں حاصل تھیں۔ اس بار سینیٹ کی ۳۵ اور ایوان کی تمام ۴۳۵ نشستوں پر ووٹنگ ہوئی۔ ڈیموکریٹس نے ایوان میں مطلوبہ ۲۱۸ نشستوں کا ہندسہ عبور کر لیا۔
سینیٹ میں ٹیکساس سے جیمز ٹالاریکو نے ریپبلکن کین پیکسٹن کو ہرایا۔ یہ ریاست ۲۰۲۴ میں ٹرمپ کو تقریباً ۱۴ پوائنٹس سے ملی تھی اور ۳۲ برس سے وہاں کسی ڈیموکریٹ نے ریاست گیر انتخاب نہیں جیتا تھا۔ کنساس میں ایڈم ہیملٹن نے سینیٹر راجر مارشل کو شکست دی، جہاں ڈیموکریٹس نے آخری بار ۱۹۳۴ میں سینیٹ نشست جیتی تھی۔ آئیووا میں جوش ٹوریک، جنوبی کیرولائنا میں اینی اینڈریوز اور شمالی کیرولائنا میں رائے کوپر بھی کامیاب رہے۔ مین میں ٹرائے جیکسن نے سوزن کولنز کو ہرایا اور اوہائیو میں شیروڈ براؤن جیت گئے۔ مشی گن میں عبدالسید نے مائیک راجرز کے مقابلے میں کامیابی کا دعویٰ کیا، تاہم بعض ریاستوں میں گنتی اور حتمی تصدیق جاری تھی۔
انتخابی مہم میں مہنگائی، روزمرہ اخراجات، ٹرمپ کی ٹیرف پالیسی اور ایران کے ساتھ جنگ نمایاں موضوعات رہے۔ ڈیموکریٹس کا الزام تھا کہ ٹیرف اور جنگ سے ایندھن اور دیگر اشیا مہنگی ہوئیں، جبکہ ریپبلکنز نے ڈیموکریٹک امیدواروں کو انتہا پسند قرار دیا۔ ریئل کلیئر پولنگ کے ۳۰ اکتوبر تک کے اوسط کے مطابق ایوان کے لیے ڈیموکریٹس کو ۵۲ فیصد اور ریپبلکنز کو ۴۳.۱ فیصد حمایت حاصل تھی۔
ٹرمپ نے نتائج آنے کے بعد سوشل میڈیا پر کہا کہ اگر وہ خود بیلٹ پر ہوتے تو پارٹی بھاری اکثریت سے جیتتی۔ بعد ازاں انہوں نے نتائج تسلیم کرتے ہوئے ڈیموکریٹس کو مبارک باد دی اور امیگریشن سمیت بعض امور پر تعاون کی آمادگی ظاہر کی، مگر خبردار کیا کہ غیر معقول قانون سازی کو ویٹو کر دیں گے۔
اکثریت ملنے سے ڈیموکریٹس کو انتظامیہ کی نگرانی، تحقیقات اور سینیٹ میں کابینہ ارکان، سفیروں اور وفاقی ججوں کی تقرریاں روکنے کے اختیارات ملیں گے۔ تاہم قانون سازی کے لیے دونوں ایوانوں کی حمایت اور صدر کا دستخط ضروری ہے، اور ویٹو ختم کرنے کے لیے دو تہائی اکثریت درکار ہوگی، جس کے لیے ریپبلکن ووٹ بھی چاہییں۔

متعلقہ پوسٹ