اسرائیلی صدر کی آئینی ملاقاتیں؛ نیتن یاہو کا پتہ کٹ گیا، پرائم منسٹر کیلئےہریدی دھڑے کا ووٹ دینے سے انکار

news 1793885585 2219


(وسیم عظمت) اسرائیل کی 26 ویں کنیست (پارلیمنٹ) کے حلف اٹھانے سے پانچ روز پہلے پرائم منسٹر نیتن یاہو کا پتہ کٹ گیا۔ پرائم منسٹر  بنجمن نیتن یاہو کو  2022 سے اب تک اقتدار میں رکھنے والا دائیں بازو اور انتہائی دائیں بازو کا اتحاد ٹوٹ گیا۔

صدر آئزک ہرزوگ  نے نئے پرائم منسٹر کی نامزدگی کے لئے  پارلیمنٹ کے  27 اکتوبر کو ہوئے الیکشن میں کامیاب ہونے والی پارٹیوں کے سربراہوں سے مشورہ کے لئے میٹنگز شروع کر دی ہیں اور ابتدا ہی میں پرائم منسٹر نیتن یاہو کے اب تک برقرار سمجھے جا رہے اتحاد کی ایک پارٹی کے مؤثر دھڑے نے نیتن یاہو کو  پرائم منسٹر کے عہدہ کے لئے تجویز کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

اس اعلان سے نیتن یاہو کے آج تک نئی پارلیمنٹ میں "سب سے بڑا اتحاد” ہونے کا دعویٰ زمین بوس ہو گیا ہے۔ "سب سے بڑا اتحاد” ہونے کے باوجود نیتن یاہو کی لیکود پارٹی اور ان کے اب تک اتحادی مل کر  53 ارکان بن رہے تھے جو پارلیمنٹ میں اکثریت کے نشان 61 سے 7 ارکان کم تھے۔ اب ہریدی یہودی فرقہ کی پارٹی  پارٹی  یونائٹڈ توراۃ  جوداازم UTJ  کے  ایک دھڑے نے  نیتن یاہو کو دوبارہ پرائم منسٹر نامزد کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ اس ہریدی دھڑے کا کہنا ہے کہ وہ نیتن یاہو کو وزیر اعظم کے طور پر تجویز نہیں کرے گا۔ اس کے بعدپرائم منسٹر کے عہدہ پر صدر آئزک ہرزوگ کی جانب سے چینج بلاک کے  گادی آئزن کوٹ کو پرائم منسٹر نامزد کر دیئے جانے کا واثق امکان ہے۔
UTJ کے  دھڑے  Degel HaTorah کی طرف سے پیش قدمی پریمیئر کے ساتھ دراڑ کو اجاگر کرتی ہے۔ آئزن کوٹ کو مینڈیٹ ملنے کی توقع ہے کیونکہ رعام نے تصدیق کی ہے کہ وہ  آئزن کوٹ کی توثیق کرے گا۔ صدر ہرزوگ نے ملاقاتوں میں  پارٹیوں پر زور دیا کہ وہ  بعض پارٹیوں کے ساتھ مل کر کام کرنے سے انکار کا طرز عمل ختم کریں۔

ٹائمز آف اسرائیل کی  ایریلا کرمل نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ الٹرا آرتھوڈوکس یونائیٹڈ تورہ یہودیت پارٹی کے دیگل ہاتورہ دھڑے نے  آخر ان قیاس آرائیوں کی تصدیق کر دی کہ وہ وزارت عظمیٰ کے لیے کسی امیدوار کی حمایت نہیں کرے گی۔ یہ واضح انکار اس وقت سامنے آیا جب اسرائیل کے آئین کے مطابق صدر اسحاق ہرزوگ نے یروشلم میں مشاورت شروع کی  کہ نئی حکومت بنانے کا مینڈیٹ کس کو دیا جائے گا۔
آئین کے مطابق صدر ناپ تول کر جس شخصیت کو وزیراعظم کے عہدہ پر کنیست کے ارکان کی اکثریت کا اعتماد حاصل کرتا دیکھتے ہیں، اسے وہ وزیراعظم کے عہدہ کے لئے امیدوار نامزد کر دیتے ہیں۔ نامزد وزیر اعظم کو پارلیمنٹ میں وزیر اعظم کے اعتماد کے ووٹ کے لئے خصوصی سیشن میں حاضر ارکان میں سے اکثریت سے اعتماد کا ووٹ لینا ہوتا ہے۔ اگر صدر کی نامزد کردہ شخصیت کنیست کے حاضر ارکان کی اکثریت سے اعتماد کا ووٹ نہ لے سکیں تو صدر اس کی جگہ کسی دوسری شخصیت کو پرائم منسٹر کے عہدہ کے لئے نامزد کرتے ہیں۔

صدر آئزک ہرزوگ مقبول ترین شخصیت کے تعین کے لئے کنیست میں آنے والی سیاسی جماعتوں کے سربراہوں سے ملاقاتیں کر رہے ہیں اور پرائم منسٹر کے عہدہ پر کسی کو نامزد کرنے کے لئے اپنی رائے بنا رہے ہیں۔  صدر ہرزوگ کی ان ملاقاتوں کو نئے پرائم منسٹر کے انتخاب میں شفافیت کے لئے براہ راست نشر کیا جا رہا ہے۔

news 1793885586 6247
Caption  مذہبی صیہونیت پارٹی کے اراکین، منسٹر اوریٹ سٹروک، ایٹامر ایٹم اور زویکا مور، یروشلم میں صدر کی رہائش گاہ پر صدر اسحاق ہرزوگ سے 26ویں کنیسٹ، 4 نومبر 2026 کو ہونے والے انتخابات کے بعد سیاسی جماعتوں کے ساتھ مشاورت کے دوران ملاقات کر رہے ہیں۔( فوٹو: بذریعہ ٹائمز آف اسرائیل Olivier Fitoussi)

صدر کی رہائش گاہ پر مشاورت  کا آغاز بدھ کی شام کو سب سے چھوٹی پارٹیوں کے ساتھ ہوا اور جمعرات کو سب سے بڑی پارٹی – وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی لیکود کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔

طریقہ کار کے مطابق ملاقاتوں میں صدر ہرزوگ کی طرف سے ہر پارٹی سے کہا جاتا ہے کہ وہ وزیر اعظم کے لیے امیدوار کی سفارش کرے اس سے پہلے کہ ہرزوگ یہ فیصلہ کریں کہ انہیں اتحاد بنانے کا پہلا موقع کس کو دینا چاہیے۔

اسرائیلی قانون کے تحت، ہرزوگ کو لازمی طور پر اس قانون ساز کا انتخاب کرنا چاہیے جس کو  ان کے خیال میں حکومت بنانے کا بہترین موقع حاصل ہے، ضروری نہیں کہ وہ سب سے زیادہ نشستوں والی پارٹی کا سربراہ ہو۔

ٹائمز آف اسرائیل کی  ایریلا کرمل نے اپنی رپورٹ میں بتایا ، "مذہبی صیہونیت”، "اوتزمہ یہودیت”، شاس اور لیکود پارٹی سب نے پہلے ہی کہہ دیا ہے کہ وہ نیتن یاہو کی سفارش کریں گے، جب کہ یاشار، ڈیموکریٹس، بی یاچد، یسرائیل بیتینو اور رام نے کہا کہ وہ یاشار پارٹی کے  رہنما گادی آئزن کوٹ کی حمایت کریں گے۔

بدھ کی رات تک، تین عرب سیاسی پارٹیوں کی جوائنٹ لسٹ  کی قیادت نے اس بات کا اشارہ نہیں دیا تھا کہ آیا وہ وزیر اعظم کے لیے آئزن کوٹ کی حمایت کرے گی یا دیگل ہتورہ کی طرح، اس عمل سے کنارہ کشی اختیار کرے گی۔

ربی ڈولینڈو اور موشے ہلیل ہرش نے پرائم منسٹر کے لئے نیتن یاہو کی مخالفت کی
دیگل ہتورہ Degel HaTorah، جو اشکنازی الٹرا آرتھوڈوکس یہودیوں کے نام نہاد لتھوانین دھڑے کی نمائندگی کرتا ہے، UTJ کی سات Knesset نشستوں میں سے چار نشستیں اس دھڑے کی ہیں۔  اور اسدھڑے میں ہی UTJ پارٹی کے چیئرمین یعکوو اشر  MK Yaakov Asher بھی شامل ہیں۔

نئے پرائم منسٹر کے انتخاب کے متعلق دیگل ہتورہ دھڑے نے کہا کہ وہ اپنے روحانی  لیڈر  ربی ڈو لینڈو اور موشے ہلیل ہرش کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے وزیر اعظم کے لیے کسی کی سفارش کرنے سے گریز کرے گا۔

چھبیسویں کنیست کے لیے منتخب ہونے والے دیگر تین UTJ قانون سازوں کا تعلق ھسیدک اگودات یسرائیلHasidic Agudat Yisrael دھڑے سے ہے، جس نے ابھی تک یہ واضح نہیں کیا ہے کہ آیا وہ بھی نیتن یاہو کی سفارش کریں گے یا Degel HaTorah کی قیادت کی پیروی کریں گے اور اپرائم منسٹر کے انتخاب کے مرحلہ سے الگ رہیں گے۔

اسرائیل کی پارلیمانی سیاست میں  منقسم میڈیٹ کے تناظر میں UTJ کے چار ارکان پر مشتمل دھڑے کا  نیتن یاہو کی قیادت کو قبول کرنے سے پرہیز بھی اہم ہے، کیونکہ یہ اس دراڑ کو نمایاں کرتا ہے جو دیرینہ حلیف نیتن یاہو کے ساتھ سبکدوش ہونے والے اتحاد کی جانب سے ہریدی مردوں کے لیے IDF سروس سے استثنیٰ کا قانون پاس کرنے میں ناکامی پر اُبھرا ہے۔

پارٹی جمعرات کو ہرزوگ سے  طے شدہ ملاقات کرنے والی ہے۔

اس سے قطع نظر کہ اگودات یسرائیل دھڑا  ہرزوگ کو پرائم منسٹر کے کسی امیدوار کی سفارش کرنے سے باز رہے گا یا نہیں، آئزن کوٹ کو حکومت بنانے کا مینڈیٹ ملنے کی وسیع پیمانے پر توقع کی جا رہی ہے، کیونکہ بدھ کی رات تک انہوں نے صدر کے ساتھ ملاقاتوں میں سامنے آ چکی سفارشات میں واضح برتری حاصل کر لی تھی، اس ضمن میں کلیدی کردار منصور عباس کی  زیرقیادت رعام Ra’am پارٹی نے کیا۔ رعام نے اعلان کیا کہ وہ آئزن کوٹ  کی امیدواری کی حمایت کرے گی۔

عرب سیاستدانوں کے متعلق نسل پرستانہ ریمارکس پر صدر ہرزوگ کی مذمت

آئن کے تحت لازمی ملاقاتوں کے دوران صدر ہرزوگ نے واضح کیا  کہ انتہائی دائیں بازو کے وزیر کی جانب سے عرب جماعتوں کی مخالفت نسل پرستانہ ہے۔
صدر کی رہائش گاہ پر بدھ کے روز ہونے والی مشاورت کا آغاز ’ریلیجس زایونزم‘ (Religious Zionism) پارٹی کے ساتھ ہوا، جس نے گزشتہ منگل کے انتخابات میں ’زیہوت‘ (Zehut) کے ساتھ ایک تکنیکی اتحاد کے تحت چھ نشستیں حاصل کی تھیں۔

’زیہوت‘ کے واحد رکن پارلیمنٹ، موشے فیگلن نے الگ سے اپنی سفارش پیش کی۔

اس جماعت کی نمائندگی نیتن یاہو کی اب تک موجود حکومت کے وزیر برائے آبادکاری اوریت سٹروک اور نو منتخب قانون ساز زویکا مور اور ایتمار ایتام نے کی۔ انہوں نے ہرزوگ کو بتایا کہ وہ نیتن یاہو کو وزیر اعظم بنانے کی سفارش کرتے ہیں۔ انہوں نے نیتن یاہو کی قیادت میں ایک ’وسیع قومی حکومت‘ کے قیام کا مطالبہ کیا۔

سٹروک نے کہا، ”ہمیں بائیکاٹ کیے بغیر ایک ساتھ بیٹھنے اور باہمی سمجھ بوجھ اور معاہدوں تک پہنچنے کی ضرورت ہے۔“ ان کا اشارہ اپوزیشن جماعتوں کے اس انکار کی جانب تھا جس میں انہوں نے نیتن یاہو کی زیر قیادت حکومت میں شامل ہونے پر غور کرنے سے بھی انکار کر دیا تھا۔

news 1793885586 5114
Caption  وزیر برائے آبادکاری اوریت سٹروک، ایتمار ایتام اور زویکا مور — جو ’ریلیجس زایونزم‘ پارٹی کے نمائندے ہیں — صدر اسحاق ہرزوگ سے ملاقات اور اگلی حکومت تشکیل دینے کے لیے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی سفارش کرنے کے بعد، یروشلم میں صدر کی رہائش گاہ پر پریس کانفرنس کر رہے ہیں۔ (حیم گولڈبرگ/فلیش 90)

آپ نسل پرستی اور اپنی کہی ہوئی بات کے درمیان فرق کیسے کرتے ہیں؟
براہِ راست نشر ہونے والی اس مشاورت کے دوران، صدر ہرزوگ نے ​​عرب جماعتوں کو مکمل طور پر مسترد کرنے پر سٹروک سے اختلاف کیا اور ایک اور نمائندے کی سرزنش کی جس نے یہ الزام لگایا تھا کہ ایک ’مخالفانہ قبضے‘ (hostile takeover) کی کوشش کی جا رہی ہے۔

”ہمارا ماننا ہے کہ عرب جماعتیں اس عمل میں جائز شریک نہیں ہیں؛ اس لیے نہیں کہ وہ عرب ہیں، بلکہ اس لیے کہ وہ قوم پرست ہیں،“ سٹروک نے صدر ہرزوگ سے کہا۔  سٹروک نے دلیل دی کہ عرب سیاستدان اسرائیل کے قیام کو ایک ’سانحہ‘ سمجھتے ہیں اور ان کی انتخابی فتوحات سے اسرائیل کے دشمنوں کو فائدہ پہنچتا ہے۔

اس کے جواب میں ہرزوگ نے ​​پوچھا، ”آپ نسل پرستی اور اپنی کہی ہوئی بات کے درمیان فرق کیسے کرتے ہیں؟“

بعد ازاں انہوں نے نشاندہی کی کہ ’رعام‘ (Ra’am) پارٹی کی فہرست میں دوسرے نمبر پر موجود یہودی امیدوار، یوو سیگالووتز، ایک پولیس کمانڈر رہ چکے ہیں۔ انہوں نے کہا، ”اس طرح کی عمومی رائے (generalization) مجھے واقعی پریشان کرتی ہے۔“

صدر ہرزوگ کی عربوں الیکشن چرانے کے الزامات کی سرزنش

صدر ہرزوگ نے ’ریلیجس زایونزم‘ (مذہبی صیہونیت) کے نمائندے ’مور‘ کو بھی سرزنش کی۔ مور نے (صدر ہرزوگ کے ساتھ ملاقات میں) نیتن یاہو کے حامی بلاک کی جانب سے لگائے گئے ان بے بنیاد الزامات کو دہرایا  تھاکہ عرب جماعتوں نے انتخابات ”چوری“ کر لیے ہیں، اور دعویٰ کیا کہ کچھ قوتیں ”جمہوریت کی آڑ میں“ ریاست پر ”قبضہ“ کر رہی ہیں۔

ہرزوگ نے ​​مور کو جواب دیا، ”یہ ایک انتہائی خطرناک بیان ہے۔ یہ دعویٰ کرنا کہ دوسرا فریق اندر سے ریاست پر قبضہ کر رہا ہے، انتہائی خطرناک بات ہے۔“

news 1793885586 4988
Caption  ’زیہوت‘ (Zehut) پارٹی کے چیئرمین موشے فیگلن، 26 ویں کنیست (اسرائیلی پارلیمنٹ) کے انتخابات کے بعد، اسرائیل کی اگلی حکومت تشکیل دینے کے لیے  آئینی مشاورت کے لیے یروشلم میں صدر اسحاق ہرزوگ کی رہائش گاہ پہنچے۔ (4 نومبر 2026 – حائم گولڈبرگ/فلیش 90)

اسی شام، ’زیہوت‘ پارٹی کے موشے فیگلن نے بھی تجویز دی کہ نیتن یاہو کو حکومت سازی کا مینڈیٹ دیا جائے۔ تاہم، انہوں نے صدر ہرزوگ سے یہ بھی کہا کہ ان کے نزدیک ”ان انتخابات کی قانونی حیثیت پر ہی ایک سیاہ بادل منڈلا رہا ہے،“ جس کی وجہ ووٹر فراڈ (دھاندلی) کے الزامات پر جاری تحقیقات ہیں۔

پارٹی کے ڈائریکٹر جنرل، جو فیگلن کے ہمراہ موجود تھے، نے صدر ہرزوگ کو بتایا کہ اگرچہ دائیں بازو کی لبرٹیرین (آزادی پسند) جماعت ’زیہوت‘ نیتن یاہو کی حمایت کر رہی ہے، لیکن وہ ”کسی بھی ایسی حکومت کا حصہ بننے پر خوش ہوگی جو ہمارے اصولوں سے ہم آہنگ ہو اور کسی بھی آئندہ قتل عام کو روک سکے۔“

تاہم، فیگلن نے واضح کیا کہ کسی کے بھی ساتھ کام کرنے کی یہ پیشکش عرب جماعتوں پر لاگو نہیں ہوتی۔انہوں نے متحدہ حکومت کے بارے میں سوالوں کو ٹال دیا۔
مذہبی صیہونیت کے بعد صدر ہرزوگ سے ملاقات کے لئے جانے والی پارٹی شاس  کے نمائندے تھے،  شاس کو  27 اکتوبر کے الیکشن میں چھ کنیسٹ سیٹیں  ملی تھیں، اس مرتبہ شاس پارٹی کو 1992 کے بعد سے بدترین انتخابی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔

UTJ کے برعکس، Sephardi الٹرا آرتھوڈوکس پارٹی شاس نے پہلے ہی اعلان کر دیا تھا کہ وہ وزیر اعظم کے لیے نیتن یاہو کی حمایت کرے گی۔

ہرزوگ کے ساتھ اپنی میٹنگ کے دوران، پارٹی کے تمام نمائندوں نے، جن میں سے ایک پہلے سے ہی کنیست کے ممبران میں بیٹھے ہوئے ہیں، نے ہریدی مردوں کے لیے لازمی فوجی بھرتی کے خلاف اپنے موقف کا دفاع کیا،  رکن کنیست مائیکل مالکیلی نے کہا کہ پارٹی نے "کبھی بھی IDF سپاہیوں کی بے عزتی نہیں کی”، بلکہ محض "تورات کے علماء کی قدر کو تسلیم کرنے” کو ترجیح دی۔

news 1793885586 3459
Captionچار نومبر 2026 کو 26 ویں کنیسٹ کے انتخابات کے بعد سیاسی جماعتوں کے ساتھ مشاورت کے دوران شاس پارٹی کے اراکین یروشلم میں صدر کی رہائش گاہ پر صدر اسحاق ہرزوگ سے ملاقات کر رہے ہیں۔ (Olivier Fitoussi/POOL)

شاس کے نمائندوں نے ہرزوگ کے اس سوال کو ٹال دیا کہ شاس نے اتحاد کی حکومت کے امکان کے بارے میں خاموشی کیوں اختیار کی ہے، اس سے کہا: "یہ وزیر اعظم نیتن یاہو ہیں جو ایک اتحاد کی حکومت بنائیں گے، اور ہم چاہتے ہیں کہ آپ مسٹر صدر، انہیں مینڈیٹ دیں۔”

اسرائیل بیتینو: عرب اور حریدی جماعتوں کو مسترد کرنا ‘ذاتی’ نہیں ہے، لیکود میں ریوولٹ کیلئے پر اُمید
شاس کے ساتھ صدر ہرزوگ کی ملاقات یسرائیل بیتینو کے نمائندوں کے ساتھ  صدر ہرزوگ کی مشاورت کے بعد ہوئی،  یسرائیل بیتینو نے گزشتہ ہفتے کے انتخابات میں سات نشستیں جیتی تھیں۔ 

پارٹی نے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ وہ وزارتِ عظمیٰ کے لیے آئزن کوٹ  کی حمایت کرے گی، اور اس کے نمائندوں نے ہرزوگ (Herzog) کے سامنے اس بات کی تصدیق بھی کی۔

مشاورت کے دوران، صدر نے ’یسرائیل بیتینو‘ (Yisrael Beytenu) کی جانب سے مستقبل کی حکومت کے لیے پیش کردہ محدود مطالبات پر بات چیت کی۔ پارٹی کے چیئرمین ایویگڈور لیبرمین (Avigdor Liberman) نے واضح کر دیا تھا کہ وہ نہ تو عرب جماعتوں اور نہ ہی ’حریدی‘ (انتہائی مذہبی یہودی) جماعتوں پر انحصار کریں گے، اور نہ ہی نیتن یاہو کے ساتھ اتحاد میں شامل ہوں گے یا دوبارہ انتخابات کروانے کی حمایت کریں گے۔

صد ہرزوگ نے ​​سوال کیا، "اگر آپ اس کے ساتھ نہیں بیٹھنا چاہتے، نہ اس کے ساتھ، اور نہ ہی کسی اور کے ساتھ — تو پھر اس کا نتیجہ کیا نکلے گا؟”

وفد کی قیادت کرنے والے رکنِ کنیست (MK) اوڈیڈ فورر (Oded Forer) نے جواب دیا، "موجودہ حکومت اپنی پالیسیوں کے لحاظ سے ’دائیں بازو‘ (right-wing) کی نہیں ہے۔ انہوں نے 7 اکتوبر کے قتل عام (اسرائیل پر حماس کے حملے)  کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ ہم سے یہ توقع کیسے رکھی جا سکتی ہے کہ ہم انہیں اقتدار کی چابیاں سونپ دیں؟”

ہرزوگ نے ​​دوبارہ پوچھا، "تو پھر کیا بچا؟ آپ کس کے ساتھ بیٹھنے کا ارادہ رکھتے ہیں؟” اس پر فورر نے اشارہ دیا کہ شاید ’لیکود‘ (Likud) پارٹی کے اندر ہی کچھ ایسے ’عناصر‘ موجود ہوں — جس سے بظاہر ان کا اشارہ ان لوگوں کی جانب تھا جو اپنی پارٹی سے الگ ہو سکتے ہیں۔

news 1793885587 5560
Caption اسرائیلی رکنِ کنیست عودید فورر (پارٹی: یسرائیل بیتینو) یروشلم میں صدر کی رہائش گاہ پر ایک پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے ہیں۔ یہ گفتگو صدر اسحاق ہرزوگ کے ساتھ اس مشاورت کے بعد ہوئی جو 26 ویں کنیسٹ کے انتخابات کے تناظر میں اسرائیل کی اگلی حکومت کی تشکیل کے سلسلے میں کی گئی تھی۔ (4 نومبر، 2026 – تصویر: حائم گولڈبرگ/فلیش 90)

فورر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ عرب اور انتہائی مذہبی (الٹرا آرتھوڈوکس) جماعتوں کے ساتھ کام کرنے سے انکار ’ذاتی‘ نہیں بلکہ ایک ’سٹریٹجک‘ (حکمت عملی پر مبنی) فیصلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’یسرائیل بیتینو‘ ایسے شراکت داروں کے ساتھ کام نہیں کر سکتی جو "حماس کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے سے قاصر ہوں”۔ اس کے علاوہ، یہ جماعت اسرائیلی دفاعی افواج (IDF) میں مزید فوجیوں کو شامل کرنے کے عزم پر کاربند ہے۔

رات کے وقت ہونے والی یہ مشاورت فیگلن (Feiglin) کے ساتھ  ملاقات کے بعد ختم ہوئی، اور جمعرات کی صبح ساڑھے 8 بجے ’یونائیٹڈ توراہ یہودیت‘ (United Torah Judaism) پارٹی کے ساتھ دوبارہ شروع ہونی تھی۔

مشاورت کے اختتام تک، توقع ہے کہ آئزن کوٹ کو حکومت سازی کے مینڈیٹ کے لیے کم از کم 56 سفارشات (حمایتیں) مل چکی ہوں گی۔ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ آیا ’جوائنٹ لسٹ‘ (Joint List) اپنی 11 نشستیں آئزن کوٹ  کی سفارشات میں شامل کرے گی، یا پھر گزشتہ انتخابات کی طرح کسی کے حق میں بھی سفارش کرنے سے گریز کرے گی۔

news 1793885586 7174
Caption عرب جوائنٹ لسٹ کے رہنما الیکشن کی رات اپنی کامیابی کے بعد تینوں پارٹیوں کے کارکنوں کے سامنے باہمی یکجہتی کا اظہار کر رہے ہیں۔

اگر آئزن کوٹ کو حکومت سازی کا مینڈیٹ مل جاتا ہے، تو آئزن کوٹ کے پاس اتحادی حکومت تشکیل دینے کے لیے زیادہ سے زیادہ 42 دن ہوں گے۔ تاہم، ان کے لیے حکومت بنانا آسان نہیں ہوگا، کیونکہ ان کے اپنے ’صیہونی جماعتوں کے بلاک‘ (Zionist bloc) کے اندر ہی عرب اور ’حریدی‘ (Haredi) جماعتوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کی مخالفت موجود ہے۔

اس خبر کا تقریباً تمام مواد ٹائمز آف اسرائیل کی رپورٹ سے لیا گیا





Source link

متعلقہ پوسٹ