شیخ حسینہ کا کسی بھی قیمت پر دسمبر میں بنگلہ دیش واپسی کا عزم

hasina 050826 d 2


نئی دہلی: بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا ہے کہ وہ سزائے موت سنائے جانے کے باوجود اگلے ماہ ہندوستان میں جلاوطنی سے بنگلہ دیش واپس آنے کے لیے پرعزم ہیں۔
2024 میں طلبہ کی قیادت میں عوامی بغاوت کے نتیجے میں اقتدار سے ہٹائے جانے کے بعد حسینہ ہندوستان فرار ہو گئی تھیں اور تب سے وہیں مقیم ہیں۔ 2025 میں ڈھاکہ کے ایک خصوصی ٹریبونل نے انہیں انسانیت کے خلاف جرائم پر سزائے موت سنائی اور قرار دیا کہ وہ اس کریک ڈاؤن کا حکم دینے کی ذمہ دار تھیں جس میں سینکڑوں افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوئے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق مظاہرین کے خلاف کارروائی میں تقریباً 1400 افراد مارے گئے۔ حسینہ تمام الزامات سے انکار کرتی ہیں اور ٹریبونل کے فیصلے اور مقدمے کی قانونی حیثیت کو مسترد کر چکی ہیں۔ بنگلہ دیش نے بارہا ان کی حوالگی کا مطالبہ کیا، مگر ہندوستان نے انکار کیا ہے۔ انہوں نے واپسی کے ارادے کا اعلان پہلی بار اگست میں کیا تھا۔
ای میل کے ذریعے سوالات کے جواب میں حسینہ نے کہا، "اگر موت میری تقدیر ہے تو میں اپنے ملک کی مٹی پر، اپنے لوگوں کے درمیان مرنا پسند کروں گی۔ لہٰذا میں بنگلہ دیش واپس آؤں گی۔ یہ فیصلہ تبدیل نہیں ہوا۔” انہوں نے کہا کہ وہ جانتی ہیں کہ واپسی پر انہیں گرفتار، قید، تشدد کا نشانہ یا قتل کیا جا سکتا ہے، لیکن وہ اپنی باقی زندگی اپنے لوگوں کو دور سے تکلیف میں دیکھتے ہوئے نہیں گزار سکتیں۔ انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ وہ ہندوستان سے کیسے واپس آئیں گی۔
امریکہ اور ہندوستان جیسے ممالک سے دباؤ ڈلوانے کی توقع کے سوال پر حسینہ نے کہا کہ وہ غیر ملکی تحفظ نہیں چاہتیں، اور انہیں وطن واپسی کے لیے کسی غیر ملکی طاقت کی ضرورت نہیں۔
حسینہ 2009 سے 2024 تک وزیر اعظم رہیں۔ ان کی حکومت کے خاتمے کے بعد نوبل امن انعام یافتہ محمد یونس نے عبوری انتظامیہ سنبھالی اور 18 ماہ تک ملک کی قیادت کی۔ فروری میں سابق وزیر اعظم خالدہ ضیاء کے بیٹے اور حسینہ کے دیرینہ سیاسی حریف طارق رحمان نے یونس انتظامیہ کے تحت ہونے والے انتخابات میں کامیابی حاصل کی، جبکہ عوامی لیگ کو انتخاب میں حصہ لینے سے روک دیا گیا تھا۔
حسینہ کی منصوبہ بند واپسی ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب ان کی جماعت پر پابندی برقرار ہے اور سینئر رہنما گرفتار یا جلاوطن ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اگست 2024 سے اب تک کم از کم 20 ہزار پارٹی اراکین مارے جا چکے ہیں، جبکہ ہزاروں گرفتار، تشدد کا شکار یا روپوش ہونے پر مجبور ہوئے۔ ان کے بقول حامی گھر، کاروبار اور روزگار سے بھی محروم ہوئے۔ انہوں نے کہا، "کوئی معمول کا سیاسی یا جمہوری ماحول نہیں ہے۔”
ہیومن رائٹس واچ سمیت کئی حقوق گروپوں نے حالیہ مہینوں میں شہری اور سیاسی حقوق پر حملوں کے الزام میں رحمان حکومت پر تنقید کی ہے۔ موجودہ حکومت کو امن و امان کی بگڑتی صورتحال پر بھی تنقید کا سامنا ہے۔

متعلقہ پوسٹ