برطانیہ: مسلمانوں کی مثبت کہانیوں کا پلیٹ فارم "ہائفن” بند ہونے کے قریب


لندن: برطانیہ اور یورپ میں مسلمانوں کی زندگی، کامیابیوں، ثقافت اور مسائل کو مرکزی دھارے کے میڈیا میں جگہ دینے والا ڈیجیٹل نیوز پلیٹ فارم "ہائفن” مالی معاونت ختم ہونے کے باعث بند ہونے جا رہا ہے۔ 2022 میں شروع ہونے والے اس ادارے کا آخری سالانہ فیسٹیول 4 نومبر کو ویسٹ منسٹر میں منعقد ہوا، جس میں سیاست، کھیل اور تفریح سے وابستہ نمایاں شخصیات شریک ہوئیں۔
ادارے کی ملکیت لنک میڈیا کارپوریشن کے پاس ہے، جو "عربین گلف بزنس انسائٹ” بھی چلاتی ہے۔ کمپنی کے چیف ایگزیکٹو مارٹن نیولینڈ نے تصدیق کی کہ متحدہ عرب امارات میں قائم پیرنٹ کمپنی نے 2027 سے ہائفن کی فنڈنگ بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کی وجہ مشکل معاشی حالات میں ادارے کی اسٹریٹجک ترجیحات میں تبدیلی بتائی گئی ہے۔ اس فیصلے سے تقریباً 18 صحافیوں اور مستقل معاونین کی ملازمتیں خطرے میں ہیں۔ لنک میڈیا نے عملے کو ممکنہ ملازمتوں کے خاتمے سے متعلق مشاورت کے عمل سے آگاہ کر دیا ہے۔ بندش کی حتمی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا اور اس دوران ویب سائٹ پر مواد کی اشاعت جاری ہے۔
فیسٹیول میں ناز شاہ، ریپر و ٹی وی شخصیت بگ زُو اور پیرا پاور لفٹر دعا شایعہ سمیت کئی مہمانوں نے شرکت کی، جن کے انٹرویوز ہائفن کے یوٹیوب چینل پر براہِ راست نشر کیے گئے۔ ایک پینل میں حکومت کے انسدادِ انتہا پسندی پروگرام "پریونٹ” کے مستقبل پر بات ہوئی، جس میں پریونٹ واچ کی ڈائریکٹر لیلیٰ ایتلہدج اور سابق عبوری آزاد پریونٹ کمشنر ڈیوڈ اینڈرسن شریک ہوئے۔ دوسرے پینل میں انگریزی زبان کی تعلیم کو معیشت، روزگار اور سماجی شمولیت سے جوڑ کر زیرِ بحث لایا گیا۔ اس موقع پر حج پر ایک نئی سفری دستاویزی فلم بھی دکھائی گئی۔
ہائفن نے مساجد کی حفاظت، اسلاموفوبیا، امیگریشن، تعلیم اور روزگار جیسے موضوعات پر رپورٹنگ کی اور مسلمانوں کی کامیابیوں، فنون، کھانوں، فیشن اور کھیل کو بھی نمایاں کیا۔ اس کی رپورٹنگ کے بعد برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ نے مساجد کی حفاظت کی ہوم آفس اسکیم کا جائزہ لینے کا عمل شروع کیا، جبکہ حلال سرمایہ کاری کے نام پر پیش کیے جانے والے فنڈز کی پالنٹیر میں سرمایہ کاری پر رپورٹ کے بعد متعلقہ مالیاتی ادارے نے جائزے کا اعلان کیا۔ 2025 میں اس کی ایک تحقیقاتی رپورٹ برٹش جرنلزم ایوارڈز کی مختصر فہرست میں بھی شامل ہوئی۔

متعلقہ پوسٹ