تل ابیب: گزشتہ دس دنوں میں بیرونِ ملک تین اور اندرونِ ملک ایک انتخاب نے اسرائیل کی سفارتی پوزیشن کمزور کر دی ہے، واشنگٹن میں اس کی جانچ پڑتال بڑھا دی ہے اور اسرائیلی جماعتوں کے لیے حکومت سازی مشکل بنا دی ہے۔
ان دھچکوں کا آغاز 25 اکتوبر کو سربیا سے ہوا، جہاں اسرائیل کے مضبوط اتحادی الیگزینڈر ووچک کے اتحاد کو قبل از وقت پارلیمانی انتخابات میں طلبہ کی حمایت یافتہ اینٹی کرپشن لسٹ نے شکست دے دی۔ سربیا اسرائیل کو اہم گولہ بارود فراہم کرتا رہا ہے اور اگست 2025 میں اس نے اسرائیلی ڈرونز، طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل اور الیکٹرانک وارفیئر سسٹمز کی خریداری کے لیے 1.6 ارب ڈالر کے معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ جیتنے والی "اسٹوڈنٹ لسٹ” نے تنازعات والے علاقوں کو ہتھیاروں کی برآمد روکنے کا وعدہ کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ غزہ میں فلسطینیوں کو ختم کرنے کی مبینہ کوشش میں "شراکت دار” نہیں بنے گی۔
برازیل میں صدر لوئیز اناسیو لولا دا سلوا نے فلاویو بولسونارو کے مقابلے میں دوبارہ انتخاب جیت لیا، جس سے برازیل کے ساتھ قریبی تعلقات کی اسرائیلی امیدوں کو دھچکا لگا ہے۔ لولا کے دور میں برازیل نے اسرائیل سے اپنا سفیر واپس بلایا تھا اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف میں جنوبی افریقہ کے نسل کشی کے مقدمے کی باضابطہ حمایت کی تھی۔
27 اکتوبر کو اسرائیل کے اپنے انتخابات میں کوئی بھی بڑا اتحاد حکومت بنانے کے لیے درکار نشستیں حاصل نہ کر سکا۔ بنجمن نیتن یاہو کے بلاک نے 120 رکنی کنیسٹ میں 53 نشستیں حاصل کیں، جو اکثریت سے آٹھ کم ہیں۔ صدر اسحاق ہرزوگ نے بدھ کو جماعتوں سے مذاکرات شروع کیے تاکہ طے کیا جا سکے کہ اگلی حکومت کون بنائے۔
واشنگٹن کا دباؤ
امریکہ میں منگل کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس نے کانگریس کے دونوں ایوانوں میں کامیابی حاصل کی۔ دی یروشلم پوسٹ نے مشی گن سے نومنتخب سینیٹر عبدل السید جیسی شخصیات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ ہتھیاروں کی منتقلی پر بحث کے دوران اسرائیل پر تنقیدی نقطۂ نظر کتنا زور پکڑے گا۔ نئی کانگریس کا اجلاس 3 جنوری کو ہوگا۔ اخبار نے خبردار کیا کہ واشنگٹن میں تعلقات کے مستقبل پر بحث ایسے وقت میں ہو سکتی ہے جب اسرائیلی جماعتیں مخلوط حکومت کے مذاکرات میں الجھی ہوں گی۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایکس پر لکھا کہ 2024 میں ٹرمپ کو ووٹ دینے والے جن ووٹروں نے حالیہ الیکشن میں ڈیموکریٹس کی حمایت کی، وہ اسرائیل کے ساتھ بدلتے امریکی تعلقات سے متاثر تھے، اور یہ کہ شکست کی وجہ ایران جنگ ہے۔ ٹرمپ نے فاکس نیوز کو بتایا کہ واشنگٹن سال کے اختتام تک اسرائیل کو دی جانے والی مالی امداد بند کر دے گا۔ نیتن یاہو کے ساتھ ایک سابقہ معاہدے کے تحت یہ امداد کم ہو کر تقریباً 4 ارب ڈالر سالانہ رہ جائے گی۔

