بینکنگ بحران اور یوئینو بینک اسکینڈل پیراگوئے کے صدر سینتیاگو پینا مستعفی

news 1793952856 3696



news 1793952856 3696

(24نیوز)پیراگوئے کے صدر سینتیاگو پینا نے بینکنگ بحران اور یوئینو بینک اسکینڈل کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دیدیا۔

سی این این کے مطابق صدر سینتیاگو پینا نے عہدہ چھوڑنے کا اعلان کر دیا، یوئینو بینک کو مالیاتی بحران کے باعث رات گئے بند کر دیا گیا تھا، جس کے نتیجے میں لاکھوں صارفین اپنی رقوم تک رسائی سے محروم ہو گئے اور ملک میں تنازع نے جنم لیا۔

سینتیاگو پینا نے سوشل میڈیا پر جاری پیغام میں کہا ہے کہ ملک کے استحکام، سماجی امن اور سرکاری اداروں کے تحفظ کو مدِنظر رکھتے ہوئے صدارت سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا ہے،ان کا کہنا ہے کہ اس وقت میری اولین ترجیح ان شہریوں کو ذہنی سکون فراہم کرنا ہے جنہوں نے اپنا سرمایہ ملک کے مالیاتی نظام پر اعتماد کرتے ہوئے جمع کرایا تھا۔

 صدر پینا نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ تاریخ موجودہ واقعات کا فیصلہ کرے گی اور اگر میں کسی بھی موقع پر عوام کی توقعات پر پورا اترنے میں ناکام رہا تو میں ان سے معذرت خواہ ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اب پیراگوئے کی پارلیمنٹ کو فیصلہ کرنا ہو گا کہ وہ صدر کا استعفیٰ منظور کرتی ہے یا مسترد، پارلیمنٹ میں یوئینو بینک اسکینڈل پر صدر کے خلاف مواخذے کی کارروائی شروع کرنے پر بھی غور کیا جا رہا تھا، اپوزیشن کے 35 ارکان اور حکمراں جماعت کے منحرف ارکان نے صدر کے خلاف آئین کے آرٹیکل 225 کے تحت مواخذے کی کارروائی شروع کرنے کے لیے الزامات پیش کیے تھے، ان میں فرائض کی سنگین اور مسلسل غفلت کے الزامات بھی شامل ہیں۔

جرمن نشریاتی ادارے ڈی ڈبلیو کے مطابق یوئینو بینک کے صارفین کی تعداد تقریباً 29 لاکھ 40 ہزار تھی، جو پیراگوئے کی بالغ آبادی کا تقریباً 60 فیصد بنتی ہے۔

گزشتہ ماہ تک بینک میں تقریباً 80 کروڑ ڈالرز کے سرکاری شعبے کے ڈپازٹس موجود تھے، جو اس کے مجموعی ڈپازٹس کا تقریباً ایک چوتھائی تھے، ان میں پیراگوئے کے بڑے پن بجلی منصوبوں کے منتظمین کی رقوم بھی شامل تھیں۔

پیراگوئے کے مرکزی بینک نے یوئینو بینک کے مالیاتی استحکام کا تناسب مقررہ کم از کم حد کے نصف سے بھی کم ہونے پر منگل کو بینک کی بندش اور تصفیے کا عمل شروع کرنے کا حکم دیا۔

بینک کی موبائل ایپ، کارڈ کے ذریعے ادائیگی اور رقوم کی منتقلی کی سہولتیں بند ہو گئیں، جبکہ برانچز بھی بند کر دی گئیں، جس کے باعث صارفین اپنی جمع پونجی نکلوانے کے لیے بینکوں کے باہر قطاروں میں کھڑے ہو گئے۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی کے ساحل پر نایاب اسپرم وہیل دیکھی گئی

علاوہ ازیں امریکی وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکنز کی شکست کے بعد ٹرمپ انتظامیہ سے پہلا استعفیٰ آگیا، محکمہ انصاف کی عہدیدار اسسٹنٹ اٹارنی جنرل ہرمیت ڈھلون(Harmeet Dhillon) نے استعفیٰ دے دیا۔ 

امریکا میں وسط مدتی انتخابات میں شاندار کامیابی کے بعد ڈیموکریٹک پارٹی نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کا احتساب کرنے اور ان کے اختیارات کو محدود کرنے کا اعلان کردیا ہے، جس سے واشنگٹن میں آئندہ دو سال کے دوران سیاسی کشیدگی اور قانون سازی میں تعطل کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔

 ڈیموکریٹس نے سینیٹ میں 54 نشستیں حاصل کرکے اکثریت حاصل کرلی، جبکہ ایوانِ نمائندگان میں بھی 30 نشستوں کا اضافہ کیا ہے۔

  ڈیموکریٹک رہنما حکیم جیفریز نے کہا ہے کہ ان کی جماعت کی ترجیحات میں عوام کو درپیش مہنگائی کے مسائل کا حل اور ٹرمپ انتظامیہ کا احتساب شامل ہو





Source link

متعلقہ پوسٹ