انسان تو انسان، پرندے بھی دھوکہ دینے لگے، سائنسدان حیران، دلچسپ انکشاف سامنے آگیا

پرندہ.webp


انسانوں میں جھوٹ بولنا اور دوسروں کو دھوکہ دینا عام رویہ سمجھا جاتا ہے، لیکن اب سائنس دانوں نے ایک ایسے پرندے کے حیران کن رویے کا انکشاف کیا ہے جو اپنی خوراک حاصل کرنے کے لیے دوسرے جانوروں کی آوازوں کی نقل کرکے انہیں دھوکہ دیتا ہے۔

العربیہ ڈاٹ کام کی رپورٹ کے مطابق افریقہ میں پایا جانے والا چھوٹا سا پرندہ ڈرونگو (Drongo) مختلف پرندوں اور جانوروں کی آوازوں کی نقل کرنے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ پرندہ اپنی اس مہارت کو شکار اور خوراک حاصل کرنے کے لیے استعمال کرتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ڈرونگو خاص طور پر میرکاٹ نامی چھوٹے جانوروں کو اپنے دھوکے کا نشانہ بناتا ہے۔ میرکاٹ عموماً گروہوں کی صورت میں رہتے ہیں اور خطرہ محسوس ہونے پر مخصوص آوازیں نکال کر اپنے ساتھیوں کو خبردار کرتے ہیں۔

ڈرونگو انہی خطرے کی گھنٹی بجانے والی آوازوں کی نقل کرتا ہے۔ جب میرکاٹ یہ آواز سنتے ہیں تو کسی شکاری کی موجودگی کا گمان کرتے ہوئے اپنی خوراک چھوڑ کر محفوظ مقام کی طرف بھاگ جاتے ہیں۔ اس دوران ڈرونگو ان کا چھوڑا ہوا کھانا کھا لیتا ہے۔

اس پرندے کی خاص بات یہ ہے کہ وہ صرف ایک آواز کی نقل پر انحصار نہیں کرتا بلکہ حالات کے مطابق مختلف جانوروں اور پرندوں کی آوازیں نکالتا ہے۔ سائنس دانوں نے تحقیق کے دوران ڈرونگو کی 50 سے زائد مختلف آوازیں ریکارڈ کی ہیں۔

جانوروں کی دنیا میں دھوکہ دینے اور خود کو محفوظ رکھنے کے لیے فریب پر مبنی رویوں کی کئی مثالیں موجود ہیں۔ بعض کیڑے پھولوں جیسی شکل اختیار کرکے شکار کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں، جبکہ کچھ تتلیوں کے پروں پر آنکھوں جیسے نشانات ہوتے ہیں جو شکاریوں کو خوف زدہ کرنے میں مدد دیتے ہیں۔

تاہم ڈرونگو کا رویہ ان مثالوں سے منفرد ہے کیونکہ یہ پرندہ دوسرے جانوروں کے ردعمل اور حالات کے مطابق اپنی آواز تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ماہر حیوانیات جیمز اوہانلون نے اپنی 2026 میں شائع ہونے والی کتاب ’’لائرز، چیٹرز اینڈ میمز‘‘ میں جانوروں کے ایسے ہی دلچسپ رویوں کا ذکر کیا ہے۔ ان کے مطابق ڈولفن، وہیل، چیونٹیوں، دیمک اور جنگلی کتوں میں بھی ایسے رویے دیکھے جا سکتے ہیں جن کے ذریعے وہ دوسرے جانداروں کو گمراہ کرتے ہیں۔

سائنس دانوں کے مطابق اگرچہ ڈرونگو کی یہ صلاحیت بظاہر انسانوں کے جھوٹ بولنے اور دھوکہ دینے سے مشابہت رکھتی ہے، تاہم اسے براہ راست انسانی معنوں میں جھوٹ قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ جانوروں کے رویوں کو انسانی شعور اور سوچ کے پیمانوں پر پرکھنے کے بجائے سائنسی بنیادوں پر سمجھنے کی ضرورت ہے۔



Source link

متعلقہ پوسٹ