WELLINGTON:
نیوزی لینڈ کے عام انتخابات میں کوئی بھی جماعت واضح اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی جس کے بعد ملک میں سیاسی بحران کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے جبکہ حکومت سازی کے لیے سیاسی جماعتوں کے درمیان اتحاد اور مذاکرات کا امکان بڑھ گیا ہے۔
ابتدائی نتائج کے مطابق وزیراعظم کرسٹوفر لکسن کی حکمران جماعت نیشنل پارٹی نے 42 نشستیں حاصل کی ہیں، تاہم حکومت بنانے کے لیے درکار سادہ اکثریت سے 19 نشستیں کم ہیں۔ دوسری جانب اپوزیشن جماعت لیبر پارٹی 36 نشستوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہی۔
انتخابی نتائج کے مطابق گرین پارٹی نے 16، اے سی ٹی نے 13، نیوزی لینڈ فرسٹ نے 12، اپرچیونٹی پارٹی نے 7 جبکہ ماؤری عوام کی نمائندگی کرنے والی جماعت تی پاتی ماؤری نے 5 نشستیں حاصل کی ہیں۔
نیشنل پارٹی اپنے اتحادیوں اے سی ٹی اور نیوزی لینڈ فرسٹ کے ساتھ مل کر حکومت بنانے کی پوزیشن میں آسکتی ہے، تاہم اس کے لیے اتحادی جماعتوں کے درمیان معاہدہ ضروری ہوگا۔
دوسری جانب لیبر پارٹی کے سربراہ کرس ہپکنز نے شکست تسلیم کرنے سے گریز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگلی حکومت کی تشکیل کے حوالے سے صورت حال ابھی کچھ وقت تک غیر واضح رہے گی۔
وزیراعظم کرسٹوفر لکسن نے انتخابی مقابلے کو سخت قرار دیتے ہوئے کرس ہپکنز کو مبارکباد دی اور کہا کہ حتمی نتائج آنے تک ان کی حکومت عبوری طور پر کام جاری رکھے گی، جس کے بعد بامعنی مذاکرات ممکن ہوں گے۔
کرس ہپکنز کا کہنا تھا کہ عوام نے اپنا فیصلہ سنا دیا ہے، تاہم اس فیصلے کی مکمل تصویر واضح ہونے میں کچھ وقت لگ سکتا ہے۔ نئی پارلیمنٹ میں تمام جماعتوں کو سمجھوتے، باہمی تعاون اور مشترکہ نکات تلاش کرنے کی ضرورت ہوگی۔
رپورٹ کے مطابق نیوزی لینڈ میں 99 فیصد سے زائد ووٹوں کی گنتی مکمل ہوچکی ہے اور دونوں بڑی جماعتوں کے درمیان ووٹوں کے تناسب کا فرق بھی انتہائی کم ہے۔ مہنگائی، روزمرہ اخراجات اور بے روزگاری انتخابی مہم کے اہم موضوعات رہے۔
نیوزی لینڈ کے الیکشن کمیشن کی جانب سے حتمی سرکاری نتائج کا اعلان 27 نومبر کو متوقع ہے۔

