مصطفیٰ کمال کے خلاف منفی مہم، پس پردہ محرکات کیا ہیں؟

مصتفیٰ کمال.webp


وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال کے خلاف سوشل میڈیا پر جاری مہم کے پس منظر میں ویکسین خریداری کی تحقیقات، جعلی ادویات کے خلاف حکومتی اقدامات، نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام کا مطالبہ اور ایم کیو ایم پاکستان کے اندرونی اختلافات اہم عوامل کے طور پر سامنے آ رہے ہیں۔

خیال رہے کہ سوشل میڈیا اب سیاسی محاذ آرائی کا ایک اہم ہتھیار بن چکا ہے، جہاں غیر مصدقہ خبروں، الزامات اور یکساں نوعیت کے پیغامات کو مختلف اکاؤنٹس کے ذریعے پھیلا کر کسی بھی سیاسی شخصیت کے خلاف مخصوص تاثر قائم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

سوشل میڈیا پر مصطفیٰ کمال کے خلاف حج اور عمرہ زائرین کے لیے ویکسین کی خریداری میں مبینہ بے ضابطگیوں کے الزامات کو اربوں روپے کے اسکینڈل کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے جبکہ ان کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ معاملے کے حقائق کو بڑھا چڑھا کر بیان کیا جا رہا ہے۔

ذرائع اور مصطفیٰ کمال کے حامی حلقوں کے مطابق ایف آئی اے کی تحقیقات کا تعلق تقریباً 18 کروڑ روپے کی رقم سے ہے جسے بعض سوشل میڈیا پوسٹس میں 10 ارب روپے کی مبینہ خوردبرد کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ ان حلقوں کا دعویٰ ہے کہ متعلقہ ٹینڈر کے اجرا کے وقت مصطفیٰ کمال نہ اس عمل سے آگاہ تھے اور نہ ہی ان کے دستخط سے ٹینڈر جاری کرنے کے احکامات دیے گئے تھے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ متعلقہ رقم قومی خزانے میں موجود ہے اور تحقیقاتی رپورٹ وزیراعظم کو پیش کی جا چکی ہے۔

تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق اور تحقیقات کے حتمی نتائج سامنے آنا ابھی ضروری ہے۔

دوسری جانب مصطفیٰ کمال کی وزارت صحت کے دوران بعض انتظامی اقدامات بھی زیرِ بحث ہیں۔ ان میں پاکستان اور چین کے تعاون سے قائم ایک طویل عرصے سے غیر فعال اسپتال کو دوبارہ فعال کرنا، جعلی اور غیر رجسٹرڈ ادویات کے خلاف کارروائیاں اور ادویات کی پیکنگ پر بارکوڈ سسٹم متعارف کرانے کے اقدامات شامل ہیں۔

وزارت صحت سے متعلق حلقوں کے مطابق ادویات کی شناخت، سپلائی چین کی نگرانی اور بارکوڈ نظام کے نفاذ سے غیر قانونی ادویات کے کاروبار کی روک تھام میں مدد مل سکتی ہے۔ مصطفیٰ کمال کے حامیوں کا خیال ہے کہ ان اقدامات سے متاثر ہونے والے کاروباری مفادات بھی ان کے خلاف تنقید کی ایک وجہ ہو سکتے ہیں تاہم اس حوالے سے کسی منظم مہم یا مخصوص عناصر کے ملوث ہونے کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔

مصطفیٰ کمال کے خلاف جاری سیاسی تنقید کا ایک اہم پہلو نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام کا مطالبہ بھی ہے۔ وہ اس مطالبے کے حق میں مسلسل آواز اٹھاتے رہے ہیں جبکہ کراچی سمیت سندھ کے شہری علاقوں میں انتظامی اختیارات، وسائل کی تقسیم اور بلدیاتی خودمختاری کا معاملہ طویل عرصے سے سیاسی اختلافات کا سبب بنا ہوا ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق نئے انتظامی یونٹس کا مطالبہ سندھ کی سیاست میں ایک حساس موضوع ہے اور اس پر مختلف سیاسی جماعتوں کے درمیان اختلافات پائے جاتے ہیں۔ مصطفیٰ کمال کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ ان کے خلاف جاری مہم کے ذریعے اس مطالبے سے توجہ ہٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

اس معاملے کا ایک اور پہلو پمز اسپتال میں آتشزدگی کے واقعے کے بعد مصطفیٰ کمال کی جانب سے استعفیٰ پیش کرنا بھی ہے۔ ان کے حامیوں کے مطابق انہوں نے واقعے کے تقریباً ایک گھنٹے کے اندر وزیراعظم کو استعفیٰ بھجوا دیا تھا جسے انہوں نے حکومتی ذمہ داری اور جواب دہی سے متعلق اپنے مؤقف کی مثال قرار دیا۔

ادھر ایم کیو ایم پاکستان کے اندرونی اختلافات بھی سیاسی منظرنامے کا اہم حصہ ہیں۔ 2023 میں مصطفیٰ کمال اور انیس قائم خانی کی پاک سرزمین پارٹی کے ایم کیو ایم پاکستان میں انضمام کے بعد مختلف سیاسی اور تنظیمی پس منظر رکھنے والے رہنما ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوئے تھے۔

پارٹی کے اندر تنظیمی ڈھانچے، قیادت اور اختیارات کی تقسیم سے متعلق اختلافات کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں۔ مصطفیٰ کمال کی جانب سے انٹرا پارٹی انتخابات کے انعقاد کا مطالبہ بھی اس اختلاف کا ایک اہم موضوع بتایا جاتا ہے جبکہ خالد مقبول صدیقی کی قیادت میں پارٹی کے تنظیمی معاملات بدستور سیاسی بحث کا حصہ ہیں۔

سیاسی حلقوں میں یہ تاثر بھی پایا جاتا ہے کہ پارٹی کے بعض عناصر مصطفیٰ کمال اور انیس قائم خانی کے بڑھتے ہوئے تنظیمی و سیاسی کردار سے مطمئن نہیں تاہم اس حوالے سے متعلقہ رہنماؤں کے مؤقف کو بھی اہمیت دینا ضروری ہے۔

مصطفیٰ کمال کے سیاسی ماضی اور 2016 میں الطاف حسین سے علیحدگی کے بعد کراچی واپسی کو بھی موجودہ سیاسی تناظر میں زیرِ بحث لایا جا رہا ہے۔ ان کے حامی اس اقدام کو ایم کیو ایم کی سابقہ قیادت سے ایک بڑے سیاسی انحراف کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اس وقت کے حالات میں یہ فیصلہ غیر معمولی سیاسی خطرات کا حامل تھا۔

ان کے حامیوں کی جانب سے ایم کیو ایم لندن سے وابستہ بعض عناصر پر بھی موجودہ مہم سے فائدہ اٹھانے کا الزام عائد کیا جاتا ہے تاہم اس دعوے کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورت حال میں احتساب، سیاسی مخالفت، تنظیمی اختلافات اور سوشل میڈیا پر بیانیے کی تشکیل کے معاملات کو الگ الگ دیکھنے کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر ویکسین کی خریداری میں بے ضابطگی ہوئی ہے تو اس کی شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں اور ذمہ داروں کا تعین شواہد کی بنیاد پر کیا جانا چاہیے۔ اسی طرح کسی بھی سیاسی شخصیت کو تحقیقات مکمل ہونے سے پہلے مجرم قرار دینا یا غیر مصدقہ مالی اعداد و شمار پھیلانا بھی درست طرزِ عمل نہیں۔

سوشل میڈیا پر مبینہ منظم اور معاوضے کے عوض چلائی جانے والی مہم کے الزامات نے بھی اس بحث کو جنم دیا ہے کہ آیا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو سیاسی مخالفین کے خلاف کردار کشی کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

مجموعی طور پر مصطفیٰ کمال کے خلاف جاری مہم نے نہ صرف وزارت صحت سے متعلق تحقیقات بلکہ سندھ کی انتظامی سیاست اور ایم کیو ایم پاکستان کے اندرونی تنظیمی معاملات کو بھی دوبارہ سیاسی بحث کا موضوع بنا دیا ہے۔ اس تمام صورت حال میں اصل اہمیت تحقیقات کے مستند نتائج، دستاویزی شواہد اور تمام متعلقہ فریقوں کے مؤقف کو سامنے لانے کی ہے۔



Source link

متعلقہ پوسٹ