بورڈ آف پیس میں آؤ ورنہ دو سو فیصد ٹیرف بھگتو؛ صدر ٹرمپ کی فرانس کو دھمکی

news 1768921471 3868


(ویب ڈیسک) امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فرانس کو دو سو فیصد ٹیرف لگانے کی ایک اور دھمکی دے دی۔ اس مرتبہ ٹیرف لگانے کی دھمکی فرانس کے”غزہ بورڈ آف پیس” سے دور رہنے کی وجہ سے دی گئی ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ  نے آج اعلان کیا کہ فرانس غزہ بورڈ آف پیس میں شامل نہ ہوا تو وہ  فرانس سے امریکہ آنے والی شراب  پر 200 فیصد ٹیرف لگا دیں گے۔

صدر ٹرمپ نے  ٹیرف میں اضافے کی یہ نئی دھمکی فرانس کے صدر ایمانوئل میکروں کا نام لے کے  دی ہے۔

انٹرنیشنل نیوز ایجنسی  روئٹرز نے اپنی خبر میں بتایا کہ  ٹرمپ کا اقدام(بورڈ آف پیس) جس کا آغاز غزہ سے ہوگا اور پھر دوسرے تنازعات سے نمٹنے کے لیے پھیلے گا، اقوام متحدہ کے کردار پر سوالات اٹھاتا ہے اور صدر میکروں کے قریبی ذرائع نےبتایا ہے کہ فرنچ صدر نے اس بورڈ میں شمولیت کی دعوت کو مسترد کرنے کا ارادہ کیا ہوا ہے۔
نیوز ایجنسی کے مطابق جب صدر میکروں کے موقف کے بارے میں پوچھا گیا تو ٹرمپ نے کہا، "کیا انہوں (میکروں) نے ایسا کہا؟ ٹھیک ہے، کوئی بھی انہیں نہیں چاہتا کیونکہ وہ (میکروں)بہت جلد عہدے سے فارغ ہو جائیں گے۔”
ٹرمپ نے کہا، "میں اس کی شراب اور شیمپین پر 200 فیصد ٹیرف لگاؤں گا، اور وہ شامل ہو جائے گا، لیکن اسے شامل ہونے کی ضرورت نہیں ہے،” ٹرمپ نے کہا۔

news 1768921473 8830

ٹرمپ نے اپنے ملکیتی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر صدر میکروں کا ایک "نجی پیغام” بھی شیئر کر دیا۔

 اس پیغام میں صدر میکروں نے ایران اور شام سے متعلق معاملات پر امریکہ کے صدر ٹرمپ کے مؤقف سے اتفاق کیا اور گرین لینڈ  پر امریکی قبضہ کرنے کے حوالے سے ٹرمپ کے موقف پر حیرت کا اظہار کیا۔

صدر ایمانوئیل میکروں گزشتہ سال کے اواخر میں فلسطین کو ریاست کی حیثیت سے تسلیم کر لینے کی نئی تحریک کے لیڈر تھے، ان کی کوشش سے نیویارک میں فلسطین کے متعلق خصوصی اجلاس ہوا جس میں یورپ کے کئی اہم ملکوں نے فلسطین کو ریاست کی حیثیت سے تسلیم کیا۔ صدر ٹرمپ نے اس ساری سرگرمی کی مخالفت کی تھی۔ اس دوران صدر ٹرمپ نے اپنے سفارتکاروں کے ذریعہ مصر کے شہر شرم الشیخ میں غزہ کے مسئلہ کا حل کرنے کے لئے الگ سے  ایک منصوبہ پیش کیا جس کے ایک حصہ مین غزہ مین جنگ بندی ہوئی، اسرائیل کے تمام یرغمالیوں اور وفات پاچکے یرغمالیوں کی میتوں کی واپسی ہوئی اور دوسرے حصہ میں  "غزہ بورڈ آف پیس” بنانے کی کوشش ہو رہی ہے۔

فرانس کے اس  معاملہ سے الگ رہنے کے بعد آج صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی یہ دھمکی سامنے آئی ہے کہ اگر فرانس ان کے "غزہ بورڈ آف پیس” انیشئیٹِو میں شامل نہ ہوا تو وہ امریکہ میں فرنچ شرابوں پر دو سو فیسد ٹیرف لگا دیں گے۔

یہ بھی پڑھیں :  گل پلازہ آتشزدگی میں جاں بحق ہونےوالوں کے لواحقین سےچینی سفارت خانہ کا اظہار تعزیت

فرانس سے زیادہ تر شیمپین, اعلیٰ وائین اور دوسری مہنگی شرابیں ہی امریکہ کو ایکسپورٹ کی جاتی ہیں جن کی مالیت تین ارب اسی کروڑ یورو کے لگ بھگ ہے۔

اس دھمکی سے پہلے فرانس نےیورپی ملک ڈنمارک کے ایک حصے کی حیثیت سے دنیا کے نقشے پر موجود  گرین لینڈ کے معاملے پر  صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مؤقف پر گہری تنقید کی ہے اور اس ایشو پر سارے یورپ کو ٹرمپ کے خلاف متحد کر رہے ہیں۔

مزید پڑھیں:  امریکہ پاکستان کی آزادی سے شروع ہونےوالی شراکت داری کو بڑھا رہا ہے، ناظم الامور نیٹلی بیکر

فرانسیسی صدر کے قریبی ذرائع نے خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ ٹرمپ کی ٹیرف کی دھمکیاں ’ناقابل قبول اور غیر مؤثر‘ ہیں اور اس طرح کے دباؤ سے فرانس کی خارجہ پالیسی متاثر نہیں ہوگی۔

وائن ٹیرف کا خطرہ یورپی یونین کے خلاف وسیع اقدامات کا حصہ
بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق صدر میکروں آج  شام کو پیرس واپسی کے شیڈول سے پہلے منگل کو دن کے لیےسوئٹزر لینڈ کے شہر  ڈیووس میں موجود ہیں۔ ایلیسی کے معاونین نے کہا ہے کہ  صدر میکروں کے ڈیووس میں  قیام کو بدھ تک بڑھانے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے،  دراصل ٹرمپ کل بدھ کو اس  سوئس پہاڑی تفریحی شہر پہنچیں گے۔ ان کے آنے سے پہلے میکروں وہاں سے جا چکے ہوں گے۔
فرنچ پریذیڈنٹ پر ایک اور شاٹ میں، ٹرمپ نے میکروں کا ایک نجی پیغام شائع کیا جس میں میکروں نے کہا کہ وہ گرین لینڈ پر ٹرمپ کے اقدامات کو نہیں سمجھتے۔ فرانس میں 2027 میں میکروں کی جگہ لینے کے لیے انتخابات ہو رہے ہیں۔ ٹرمپ کا خیال ہے کہ میکروں بس جانے کی والے ہیں۔

شراب پر امریکی ٹیرف اس وقت کیا ہیں 
یورپی یونین کے ملکوں سے ریاستہائے متحدہ کو برآمد کی جانے والی شراب اور اسپرٹ کو فی الحال 15 فیسد  ٹیرف کا سامنا کرنا پڑتا ہے – جس کی شرح کو فرانس والے صفر تک کم کرنے کے لیے سخت لابنگ کر رہے تھے جب سے ٹرمپ اور یورپی کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیر لیین نے گزشتہ موسم گرما میں اسکاٹ لینڈ میں US-EU تجارتی معاہدے پر اتفاق کیا تھا۔
ریاستہائے متحدہ امریکہ دراصل  فرانسیسی شراب اور اسپرٹ کے لیے سب سے بڑی مارکیٹ ہے، جہاں 2024 میں 3.8 بلین یورو کی شرابوں کی ترسیل ہوئی۔

بارکلیز میں یورپی مشروبات کی تحقیق کے سربراہ لارنس وائیٹ نے کہا، "حقیقت یہ ہے کہ ہمیں مزید خطرات مل رہے ہیں، اس سے صنعت کو سرمایہ کاری کرنا مشکل ہو جائے گا، یہ کمپنیوں کے لیے اپنی سرمایہ کاری کے لیے فیصلے کرنا مشکل بنا دے گا۔”

یہ بھی پڑھیں:  دہشتگردوں کیلئے کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہئے، ایمل ولی خان 
"انہیں زیادہ محفوظ ہونا پڑے گا، تھوڑا سا کیش واپس رکھنا پڑے گا، سرمایہ کاری نہیں کرنا پڑے گا، کیونکہ انہیں طوفانوں کے آنے کے وقت کا سامنا کرنے کے قابل ہونا پڑے گا۔”

فرنچ وائن اینڈ اسپرٹ ایکسپورٹ لابی ایف ای وی ایس کے چیئرمین گیبریل پیکارڈ نے ایک بیان میں کہا، ’’امریکہ کے صدر کے ان اعلانات کو سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے لیکن سمجھداری کے ساتھ۔‘‘
ایسوسی ایشن نے کہا کہ اس مسئلے کو یورپی سطح پر متحد اور مربوط انداز میں نمٹا جانا چاہیے۔
پچھلے سال کے دوسرے نصف میں فرانس کی شراب اور اسپرٹ کی صنعت کو پچھلے سال کے دوسرے نصف میں اس کے امریکی کاروبار میں 20%-25% کا نقصان پہنچا ہے، یہ بات  پیکارڈنے تازہ ترین خطرے سے پہلے پیر کو  ہی بتائی تھی۔

خارجہ پالیسی پر اثر انداز ہونےکیلئے ٹیرف کی دھمکیاں ناقابل قبول
میکروں کے ایک معاون نے کہا کہ ایلیسی نے ٹرمپ کے ریمارکس کا نوٹس لیا اور اس بات پر زور دیا کہ تیسرے فریق کی خارجہ پالیسی پر اثر انداز ہونے کے لیے ٹیرف کی دھمکیاں ناقابل قبول ہیں۔





Source link

متعلقہ پوسٹ