اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) وزیراعظم محمد شہباز شریف سے چیئرمین قومی احتساب بیورو لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد نے وزیراعظم ہاؤس میں ملاقات کی اور نیب کی سالانہ رپورٹ برائے سال 2025 پیش کی۔ ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار بھی موجود تھے۔
چیئرمین نیب نے وزیراعظم کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ سال نیب نے 6.213 ٹریلین روپے کی تاریخی ریکوری کی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ 2.98 ملین ایکڑ ریاستی اور جنگلاتی اراضی دوبارہ حاصل کی گئی جس کی مالیت تقریباً 5.99 ٹریلین روپے بنتی ہے۔
چیئرمین نیب نے جعلی اور فراڈ ہاؤسنگ اسکیموں کے 115,587 متاثرین کو 180 ارب روپے واپس دلوانے کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ یہ ایک قومی خدمت ہے جس سے عام آدمی کا اعتماد بحال ہوا ہے۔
وزیراعظم نے نیب کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے ادارے کو ٹیکنالوجی کی بنیاد پر چلنے والے ادارے میں تبدیل کرنے کو سراہا۔ انہوں نے AI کی مدد سے تحقیقات اور ای-آفس فریم ورک کی تعریف کی جو حکومت کے شفافیت اور کفایت شعاری کے اہداف سے ہم آہنگ ہے۔
وزیراعظم نے نیب کی پیشہ ورانہ آزادی اور قومی وسائل کے تحفظ میں اس کے کردار کی حمایت کا اعادہ کیا۔ چیئرمین نیب نے بتایا کہ "کھلی کچہری” اور "سنٹرل کمپلینٹ سیل” نے ریاست اور شہریوں کے درمیان فاصلے کم کیے ہیں اور نیب کو شکایات کے ازالے کا مؤثر ذریعہ بنایا ہے۔

