تہران: ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے مشیر علی شمخانی نے خبردار کیا ہے کہ امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی فوجی کارروائی کو مکمل جنگ کا آغاز تصور کیا جائے گا۔
علی شمخانی نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران اپنی قومی خودمختاری، سلامتی اور مفادات کے دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور کسی بھی جارحیت کا فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر امریکا نے فوجی راستہ اختیار کیا تو اس کے نتائج کی تمام تر ذمہ داری واشنگٹن پر عائد ہوگی۔
انہوں نے واضح کیا کہ دباؤ، دھمکیوں یا طاقت کے استعمال کے ذریعے ایران کو اپنے اصولی مؤقف سے پیچھے ہٹنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ علی شمخانی کے مطابق ایران خطے میں کشیدگی کا خواہاں نہیں، تاہم کسی بھی حملے کی صورت میں بھرپور ردعمل دیا جائے گا۔
ایرانی مشیر نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرے اور حالات کو مزید بگڑنے سے روکا جائے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب خطے میں امریکا اور ایران کے درمیان تناؤ میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جس کے باعث علاقائی سلامتی کے خدشات بھی بڑھ گئے ہیں۔

