: رمضان المبارک کا روحانی دیباچہ:ماہ شعبان

FB IMG 1769759907579 1


ماہِ شعبان اسلامی تقویم کا ایک بابرکت اور نہایت عظمت و فضیلت کا حامل مہینہ ہے، جو رحمت، مغفرت اور جہنم سے نجات کے مقدس مہینے رمضان المبارک کا روحانی دیباچہ سمجھا جاتا ہے۔ یہ مہینہ اہلِ ایمان کے لیے اپنے ایمان کی تجدید، اعمال کی اصلاح اور اللہ تعالیٰ کی قربت حاصل کرنے کا سنہری موقع فراہم کرتا ہے۔
احادیثِ مبارکہ کے مطابق نبی کریم ﷺ اس مہینے میں کثرت سے روزے رکھا کرتے تھے اور عبادات کا خصوصی اہتمام فرماتے تھے۔ حضرت اسامہ بن زیدؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ! میں نے آپ کو شعبان کے علاوہ کسی اور مہینے میں اس قدر روزے رکھتے نہیں دیکھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’یہ رجب اور رمضان کے درمیان ایک ایسا مہینہ ہے جس کی لوگ غفلت برتتے ہیں، حالانکہ اس میں اعمال اللہ رب العزت کے حضور پیش کیے جاتے ہیں، اور میں پسند کرتا ہوں کہ میرے اعمال اس حال میں پیش ہوں کہ میں روزے سے ہوں۔‘‘
ماہِ شعبان خصوصاً گناہوں سے توبہ، استغفار، صلہ رحمی اور دلوں کی صفائی کا مہینہ ہے۔ اس مہینے کی پندرہویں رات، جسے شبِ برات کہا جاتا ہے، کو خصوصی فضیلت حاصل ہے۔ اس رات اللہ تعالیٰ کی رحمت متوجہ ہوتی ہے اور بے شمار گناہگاروں کی مغفرت فرمائی جاتی ہے، سوائے ان کے جو شرک، کینہ یا قطع رحمی جیسے گناہوں میں مبتلا ہوں۔
علمائے کرام کے مطابق شعبان میں عبادات کی کثرت دراصل رمضان المبارک کی تیاری ہے، تاکہ انسان روزے، قیام اللیل، قرآن فہمی اور ضبطِ نفس کے لیے خود کو ذہنی و روحانی طور پر تیار کر سکے۔ یہی وجہ ہے کہ سلف صالحین اس مہینے کو غنیمت جانتے اور عبادات میں خصوصی توجہ دیتے تھے۔
مختصر یہ کہ ماہِ شعبان ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ رمضان المبارک کی عظیم نعمت سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے پہلے خود کو سنوارنا ضروری ہے۔ یہ مہینہ غفلت سے بیداری، گناہوں سے توبہ اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کا نام ہے، تاکہ آنے والا رمضان ہماری زندگیوں میں حقیقی تبدیلی کا سبب بن سکے۔

متعلقہ پوسٹ