وزیراعظم محمد شہباز شریف کا عالمی آبی ذخائر کے دن پیغام: آبی ذخائر کا تحفظ قومی اور سماجی فلاح کا ضامن

images 23


اسلام آباد (2 فروری 2026) – وزیراعظم محمد شہباز شریف نے عالمی آبی ذخائر کے دن کے موقع پر اپنے پیغام میں پاکستان کے آبی ذخائر کے تحفظ اور پائیدار استعمال کے لیے پختہ عزم کا اعادہ کیا اور انہیں قومی، ماحولیاتی، سماجی اور ثقافتی اثاثہ قرار دیا۔
اس سال یہ دن "آبی ذخائر اور روایتی علم: ثقافتی ورثے کی پاسداری” کے عنوان سے منایا جا رہا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ یہ عنوان ہمیں آبی ذخائر کے ثقافتی پس منظر اور روایتی علم کی اہمیت کی یاد دلاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان 1971 کے رامسر کنونشن کا رکن ہے جو آبی ذخائر کے تحفظ اور پائیدار استعمال کو یقینی بناتا ہے۔ قابل اعتماد آبی ذخائر خشک سالی، سیلاب اور موسمیاتی تغیرات سے نمٹنے میں مرکزی کردار ادا کرتے ہیں۔
وزیراعظم نے اپنے جھیلوں، گلیشیئرز، اندرونی آبی ذخائر، ساحلی علاقوں اور مینگرووز کے اہم کردار پر زور دیا جو حیاتیاتی تنوع، ماحولیاتی تحفظ اور پانی کے انتظام کے لیے ناگزیر ہیں۔ لاکھوں پاکستانیوں کے لیے یہ ذخائر روزگار اور روزمرہ زندگی کا لازمی حصہ ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ آبی ذخائر میں کمی سے روزگار متاثر ہوتا ہے، خوراک کی قیمتیں بڑھتی ہیں اور سیلاب و خشک سالی کا خطرہ شدید ہو جاتا ہے۔
وزیراعظم نے کہا: "آبی ذخائر کا تحفظ محض ماحولیاتی فریضہ نہیں بلکہ انفرادی اور اجتماعی سطح پر سماجی بہبود کا ضامن ہے۔”
انڈس واٹرز ٹریٹی 1960 کے مکمل اور منصفانہ نفاذ پر زور دیتے ہوئے انہوں نے پانی کو جنگی ہتھیار بنانے کی کسی بھی کوشش کو عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا اور اسے شدید الفاظ میں مسترد کیا۔
آخر میں وزیراعظم نے عہد کیا کہ پاکستان انفرادی اور اجتماعی سطح پر آبی ذخائر کو بیش قیمت اثاثہ سمجھتے ہوئے ان کے تحفظ کے لیے بھرپور کوششیں کرے گا اور عالمی سطح پر پانی کے منصفانہ اور پرامن استعمال کے لیے آواز بلند کرتا رہے گا۔

متعلقہ پوسٹ