تہران — تازہ سیٹلائٹ تصاویر نے انکشاف کیا ہے کہ ایران اپنے حساس فوجی مقامات کو تیزی سے قلعہ بند کر رہا ہے، جسے امریکی فوجی خطرے کے پیش نظر دفاعی تیاریوں کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔
سیٹلائٹ تصاویر کے تجزیے کے مطابق ایران کے اہم فوجی اڈوں اور جوہری تنصیبات کے گرد دفاعی استحکام کے کام میں غیرمعمولی تیزی آئی ہے۔ زمین دوز بنکروں کی تعمیر، فضائی دفاعی نظام کی تنصیب اور اہم مقامات پر اضافی حفاظتی حصار قائم کیے جانے کی تصاویر سامنے آئی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات امریکا کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں فوجی اثاثوں میں اضافے اور ممکنہ فوجی کارروائی کی اطلاعات کے براہ راست ردعمل میں اٹھائے گئے ہیں۔ ایران واضح طور پر کسی بھی بیرونی حملے کی صورت میں اپنے اہم ترین مقامات کو محفوظ بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں کشیدگی عروج پر ہے، اسرائیل نے اپنے دفاعی ادارے الرٹ کر دیے ہیں اور امریکی بحری بیڑہ خلیج فارس کے قریب تعینات ہے۔ تینوں فریقوں کی بیک وقت فوجی تیاریاں خطے میں کسی بڑے تصادم کے خدشات کو تقویت دے رہی ہیں۔
عالمی برادری نے صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور اقوام متحدہ نے تمام فریقوں سے تحمل اور سفارتی راستہ اختیار کرنے کی اپیل کی ہے۔

