نادرا کے نام پر مبینہ فراڈ اور گھوسٹ دفتر کا انکشاف

نادرا.webp


نادرا کے نام پر مبینہ فراڈ اور گھوسٹ دفتر کا انکشاف

شکایت کنندہ نے قومی سائبر کرائم ادارے کو تحریری شکایت بھی جمع کرا دی

کراچی میں نادرا کے نام پر مبینہ فراڈ کی انوکھی کہانی سامنے آئی ہے، جس میں گھوسٹ نادرا دفتر کی موجودگی کا بھی انکشاف ہوا ہے۔

یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا ہے، جب اوورسیز شہری نے اضافی فیس وصولی اور نادرا کا نام استعمال کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی درخواست کی۔

شکایت کنندہ محتسم عاصم صدیقی کے مطابق وہ لندن میں مقیم ہیں اور جنوری میں کراچی آئے تھے، جہاں انہیں فوری طور پر نیا نائیکوپ بنوانے کی ضرورت پیش آئی۔

ان کا کہنا ہے کہ گوگل سرچ کے ذریعے انہیں گلستانِ جوہر بلاک 18 میں واقع قاسم کمپلیکس کے ایک دفتر کی معلومات ملی۔ دفتر پہنچنے پر انہیں بتایا گیا کہ ایک نائیکوپ کی فیس 48 ہزار روپے ہوگی۔

مزید پڑھیں: نادرا کا نیا ڈیجیٹل نظام، اب شناخت کی تصدیق مزید آسان!

شکایت کنندہ کے مطابق انہوں نے اپنا اور اپنی اہلیہ کے نائیکوپ کی مد میں مجموعی طور پر 97 ہزار 700 روپے ادا کیے۔

بعد ازاں نادرا کی سرکاری ویب سائٹ چیک کرنے پر معلوم ہوا کہ نائیکوپ کی فیس 20 ہزار 400 روپے ہے۔ دوبارہ دفتر جا کر استفسار کرنے پر مبینہ طور پر انہیں بتایا گیا کہ مذکورہ دفتر کا نادرا سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

شکایت کنندہ نے مؤقف اختیار کیا کہ ان سے اضافی رقم وصول کر کے فراڈ کیا گیا اور کارروائی کے لیے انہوں نے قومی سائبر کرائم ادارے کو تحریری شکایت بھی جمع کرا دی ہے۔

انہوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ نادرا کا نام استعمال کر کے شہریوں سے رقم ہتھیانے والے عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔



Source link

متعلقہ پوسٹ