تہران / نیویارک — امریکہ اور اسرائیل کے حملوں نے نہ صرف خطے میں جنگ کی آگ بھڑکائی بلکہ کھیل کی دنیا کو بھی ہلا کر رکھ دیا۔ ایرانی فٹ بال فیڈریشن کے صدر نے اعلان کر دیا ہے کہ اس سال جون میں امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو میں ہونے والے فیفا ورلڈ کپ میں ایران کی شرکت ممکن نظر نہیں آتی۔
ایرانی فٹ بال فیڈریشن کے صدر مہدی تاج نے ایرانی ریاستی ٹیلی ویژن سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: "آج جو کچھ ہوا اور امریکہ کے اس حملے کے بعد، یہ ممکن نہیں کہ ہم ورلڈ کپ کے لیے سوچ سکیں۔ لیکن یہ فیصلہ کھیلوں کے اعلیٰ حکام کو کرنا ہے۔”
انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ ایران کی ملکی فٹ بال لیگ اگلے اعلان تک مکمل طور پر معطل کر دی گئی ہے۔
ایران کے میچ امریکی سرزمین پر:
ایران نے مارچ 2025 میں مسلسل چوتھے ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کیا تھا اور گروپ جی میں شامل ہے۔ ان کے تینوں گروپ میچ امریکی سرزمین پر ہونے ہیں — 15 جون کو نیوزی لینڈ کے خلاف لاس اینجلس میں، 21 جون کو بھی لاس اینجلس میں بیلجیم کے خلاف، اور 26 جون کو سیئٹل میں مصر سے مڈبھیڑ۔
پرانی تاریخ دہراتی ہے؟
1982 میں بھی ایران نے عراق سے جنگ کے دوران ورلڈ کپ کوالیفائرز سے دستبرداری اختیار کی تھی اور میچز غیر جانبدار مقامات پر کھیلنے پر مجبور ہوا تھا۔
ویزا بحران پہلے سے موجود تھا:
واضح رہے کہ ایران ٹرمپ انتظامیہ کی توسیع شدہ ٹریول بین کے تحت ان 39 ممالک میں شامل تھا جنہیں امریکی ویزا دینے میں پہلے ہی مشکلات تھیں۔ حتیٰ کہ فیڈریشن صدر مہدی تاج خود دسمبر 2025 میں ورلڈ کپ ڈرا تقریب میں شرکت کے لیے ویزا حاصل کرنے میں ناکام رہے تھے اور ایران نے ڈرا کا بائیکاٹ کیا تھا۔
متبادل کون؟
اگر ایران دستبردار ہوتا ہے تو فیفا کے قوانین کے تحت سب سے اہل متبادل ٹیم کو جگہ دی جائے گی۔ متحدہ عرب امارات اور عراق اس دوڑ میں سب سے آگے ہیں۔
فیفا کا موقف:
فیفا سیکرٹری جنرل میٹیاس گرافسٹروم نے ویلز میں انٹرنیشنل فٹ بال ایسوسی ایشن بورڈ کے سالانہ اجلاس میں کہا: "میں نے آج صبح یہ خبریں اسی طرح پڑھیں جیسے آپ نے۔ ہم نے اجلاس کیا اور ابھی تفصیل میں تبصرہ کرنا قبل از وقت ہوگا، لیکن ہم دنیا بھر کے تمام معاملات کی نگرانی کرتے رہیں گے۔”
ورلڈ کپ صرف 103 دن دور ہے۔

