(24نیوز)ابھی روانہ ہو جاؤ’: امریکہ نے اپنے شہریوں کو اسرائیل سمیت مشرق وسطیٰ کے تقریباً تمام ممالک کو فوری طور پر چھوڑنے کا کہا ہے۔
امریکہ کی طرف سے مشرق وسطیٰ اور اسرائیل میں موجود اپنے شہریوں کو انتہائی غیر معمولی ہدایت ایران ، امریکہ اسرائیل جنگ کے تیسرے دن جاری کی گئی ہے۔ یہ ہدایت لاکھوں امریکیوں کو متاثر کرتی ہے۔ صرف اسرائیل میں اس وقت 200,000 سے زیادہ امریکی موجود ہیں۔ مشرق وسطیٰ کے ممالک مین امریکی شہریوں کی تعداد ملا کر لاکھوں میں بتائی جا رہی ہے۔
ایران کی جانب سے جوابی حملوں کو وسیع کرنے کے بعد، ٹرمپ نے ایران پر زیادہ بڑے حملوں کا عزم ظاہر کیا ہے، اسی دوران امریکی شہریوں کے لئے یہ ہدایت آئی ہے کہ وہ مشرق وسطیٰ کے ممالک اور اسرائیل کو فوری طور پر چھوڑ دیں۔
مستند میڈیا ریورپٹس کے مطابق امریکہ نے پیر کے روز امریکیوں پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر مصر سے لے کر مشرق وسطیٰ کی ریاستوں اور اسرائیل تک جہیاںبھی موجود ہیں، فوری طور پر اس علاقہ کو چھوڑ دیں۔ عین اسی وقت امریکہ کے وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اسلامی جمہوریہ ایران کی جانب سے اسرائیل، مشرق وسطیٰ کےخطے میں امریکی اثاثوں اور کئی خلیجی ریاستوں پر جوابی حملوں کے بعد ایران پر "اور بھی زیادہ سزا دینے والے” حملوں کا عزم ظاہر کیا۔
واشنگٹن میں سٹیٹ ڈپارٹمنٹ ” نے امریکیوں پر زور دیا ہے کہ وہ سنگین حفاظتی خطرات کی وجہ سے، دستیاب کمرشل نقل و حمل کے ذرائع کا استعمال کرتے ہوئے فہرست میں بتائے گئے ممالک سے ابھی روانہ ہو جائیں،” مورا نامدار، اسسٹنٹ سیکرٹری آف اسٹیٹ برائے قونصلر امور نے X پر لکھا۔
نامدار نے اسرائیل، فلسطین کےمغربی کنارے اور غزہ، لبنان، شام، عراق، اردن، سعودی عرب، یمن، عمان، بحرین، متحدہ عرب امارات، کویت، قطر اور ایران کو ان ممالک کی فہرست میں درج کیا جہاں موجود امریکیوں کو وہاں سے فوراً نکل جانا چاہئے۔۔
مورا نامدار نے مصر کو بھی اس فہرست میں شمار کیا، جو خطے کا سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہے، جسے اسلامی جمہوریہ کے ساتھ برسوں سے کشیدہ تعلقات کے باوجود ایران کے انتقامی حملوں میں نشانہ نہیں بنایا گیا۔
"سنگین حفاظتی خطرات کی وجہ سے کمرشل ذرائع سے ابھی روانہ ہوں،” اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی نئی سیکیورٹی اپ ڈیٹ میں زور دیا گیا۔
The @SecRubio @StateDept urges Americans to DEPART NOW from the countries below using available commercial transportation, due to serious safety risks. Americans who need State Department assistance arranging to depart via commercial means, CALL US 24/7 at +1-202-501-4444 (from… pic.twitter.com/vdplAik2Sq
— Assistant Secretary Mora Namdar (@AsstSecStateCA) March 2, 2026
دس لاکھ تک امریکیوں کو اچانک انخلا درپیش
ٹائمز آف اسرائیل نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ امریکہ کے اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی یہ انتہائی غیر معمولی ہدایت ممکنہ طور پر 500,000 سے 1 ملین امریکیوں کو متاثر کرتی ہے جو مشرق وسطی میں رہتے ہیں، ان میں سے 200,000 سے زیادہ اسرائیل اور مغربی کنارے میں مقیم ہیں۔

امریکہ نے اپنے شہریوں کی بہت بڑی تعداد کے انخلا کے لئے خصوصی پروازوں کا انتظام نہیں کیا ہے، اور کمرشل فلائتس پہلے ہی پورے خطے میں متاثر ہوئی ہیں۔ اسرائیل، قطر، شام، ایران، عراق، کویت اور بحرین نے اپنی فضائی حدود بند کر رکھی ہیں۔ اسرائیل کی جانب سے اگلے ہفتے سے پہلے اپنی فضائی حدود دوبارہ کھولنے کی کوئی توقع نہیں ہے، اورتل ابیب کا بین گوریون ہوائی اڈہ مکمل بند ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مشرق وسطیٰ جنگ: فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش کررہے ہیں: اسحاق ڈار
مشرق وسطیٰ میں امریکیوں کو بتایا گیا کہ وہ فون نمبر 1-202-501-4444 پر چوبیس گھنٹے مین کسی بھی وقت امریکی محکمہ خارجہ سے بات کر سکتے ہیں، اور اپ ڈیٹس حاصل کرنے کے لیے step.state.gov کے ذریعے اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے اسمارٹ ٹریولر انرولمنٹ پروگرام (STEP) کے ساتھ رجسٹر ہونے کی تاکید کی گئی ہے۔
غیر ہنگامی عملے کو نکلنے کے لئے حملے سے ایک روز پہلے کہا گیا تھا
اسرائیل اور امریکہ کے ایران پر حملے سے ایک دن پہلے امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے گزشتہ جمعہ کے روز غیر ہنگامی عملے اور اسرائیل میں تعینات افراد کے اہل خانہ کو "حفاظتی خطرات” کی وجہ سے ملک چھوڑنے کا انتباہ دیا تھا، امریکی سفیر مائیک ہکابی نے مبینہ طور پر سفارت خانے کے عملے سے کہاتھا کہ اگر وہ اسرائیل چھوڑنا چاہتے ہیں، تو انہیں "آج ہی کرنا چاہیے۔”
جمعہ کے روز عام امریکیوں کو مشرق وسطیٰ کے ممالک اور اسرائیل چھوڑنے کا کوئی اشارہ نہیں دیا گیا تھا۔
مارکو روبیو کی سوشل میڈیا پوسٹ
اب جب کہ مشرق وسطیٰ کے کئی ممالک سے نکلنا عملاً مسدود ہو چکا ہے، امریکہ کے حکام نے اپنے لاکھوں شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ بس فوری طور پر کسی نہ کسی ذریعہ سے نکل جائیں۔
وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بعد میں ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا، خطے میں امریکی شہریوں پر زور دیا کہ وہ سوشل میڈیا اور STEP پر محکمہ خارجہ کی اپ ڈیٹس پر عمل کریں۔ روبیو نے لکھا، "مشرق وسطی میں تمام امریکی شہریوں کے لیے: آپ کی حفاظت اور سلامتی ہماری اولین ترجیح ہے،”
To all American citizens in the Middle East: your safety and security is our number one priority.
Sign up to receive STEP alerts at https://t.co/SpQfuj4gN2.
Get information at @TravelGov and you can call the department 24/7 at +1-202-501-4444. pic.twitter.com/G8grZVgmCF
— Secretary Marco Rubio (@SecRubio) March 2, 2026
روبیو نے امریکیوں کو مشرق وسطیٰ کے بیشتر علاقوں سے فرار ہونے کے لیے ایک گھنٹہ پہلے جاری کردہ ہدایت کا کوئی ذکر نہیں کیا۔

سب سے زیادہ نقصان آنا ابھی باقی ہے، روبیو کی آج صحافیوں سے گفتگو
واشنگٹن میں پیر کے روز کی ابتدائی گھڑیوں میں صحافیوں کے ساتھ امریکہ اور اسرائیل کی ہفتے کے روز سے جاری ایران پر بمباری کی مہم کے بارے میں بات کرتے ہوئے، روبیو نے صحافیوں کو بتایا کہ "(ایران میں) امریکی فوج کی طرف سے سب سے زیادہ نقصان ابھی آنا باقی ہے۔”
انہوں نے کہا کہ "اگلا مرحلہ ایران کو اس وقت سے بھی زیادہ سزا دینے والا ہو گا۔”
چوبیس گھنٹوں میں ایران پر حملوں میں بڑے اضافے کی تیاری
دریں اثنا، CNN نے ایک نامعلوم سینئر امریکی اہلکار کے حوالے سے بتایا کہ امریکہ اگلے 24 گھنٹوں کے دوران ایران پر حملوں میں "بڑے اضافے” کی تیاری کر رہا ہے۔
سی این این کو اطلاع فراہم کرنے والے اہلکار کے مطابق، واشنگٹن کا اندازہ ہے کہ اب تک کی بمباری کی مہم ایران کے دفاعی نظام کو تباہ کرنے میں کامیاب رہی ہے، اور حملوں کے اگلے مرحلے میں ایران کے میزائلوں کی تیاری، ڈرونز اور بحری صلاحیتوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔

مقصد ریجیم کو گرانے کے حالات پیدا کرنا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیل کے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کا مقصد ایرانیوں کے لیے اسلامی جمہوریہ کو گرانے کے لیے حالات پیدا کرنا ہے۔
ایران نے جواب میںاسرائیل پر امریکی فوجی اڈوں کی میزبانی کرنے والے عرب ممالک پر مہلک بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں۔

ریاض میں امریکی ایمبیسی پر ڈرون کا حملہ، سعودی حکام کی تصدیق
سعودی عرب کی وزارت دفاع نے ابتدائی تشخیص کا حوالہ دیتے ہوئے ایکس پر کہا کہ منگل کے دن کے اوائل میں، ریاض میں امریکی سفارت خانے کو 2 ڈرونز نے نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں محدود آگ اور کچھ مادی نقصان ہوا۔
ایران میں فوجی بھیجنا ضروری نہیں، ٹرمپ
امریکی نشریاتی ادارے نیوز نیشن نے بعد میں رپورٹ کیا کہ ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ایران جلد ہی ریاض کے سفارت خانے پر حملے اور امریکی فوجی اہلکاروں کی ہلاکت پر واشنگٹن کی طرف سے جوابی کارروائی کا سامنا کرے گا۔
نیوز نیشن کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے مزید کہا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ ایران میں زمین پر امریکی فوجی بھیجنا ضروری ہوں گے۔
جنگ میں مرنے والے امریکیوں کی تعداد 6, زخمیوں کی تعداد 18 ہوگئی
امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے پیر کے روز کہا کہ ہفتے کے روز ایران کے ساتھ جنگ شروع ہونے کے بعد سے چھ امریکی فوجی اہلکار ہلاک اور 18 شدید زخمی ہو چکے ہیں۔
اتوار کو سنٹکام نے اطلاع دی تھی کہ مرنے والوں کی تعداد چار افراد اور پانچ شدید زخمیوں سے ہے۔

پیر کے روز (امریکہ میں پیر کے روز) دو مزید ہلاکتیں اس وقت شمار ہوئیں جب "امریکی افواج نے حال ہی میں خطے میں ایران کے ابتدائی حملوں کے دوران اپنے ایک اڈے پر تباہ شدہ عمارت کے ملبہ سے مارے جانے والے دو سابق سروس ممبران کی باقیات برآمد کیں”۔
امریکہ کے مرنے والے تمام چھ فوجیوں کو کویت میں ایرانی میزائل حملے میں ہلاک کیا گیا تھا۔
ایک امریکی اہلکار کے مطابق، جسے پبلکلی تبصرہ کرنے کا اختیار نہیں تھا اور اس نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کی اور بتایا کہ تمام مرنے والے ایک ہی لاجسٹک یونٹ سے تعلق رکھنے والے فوجی تھے۔
پیر کے اوائل میں ہونے والی ہلاکتوں کے بارے میں پوچھے جانے پر، ہیگستھ نے کہا کہ ایک ایرانی ہتھیار نے اتحادی فضائی دفاع س کو ناکام بنایا تھا "اور، اس خاص معاملے میں، ایک ٹیکٹیکل آپریشن سینٹر کو نشانہ بنایا گیا جو مضبوط تھا۔”
یہ بھی پڑھیئے: اسرائیل ایران جنگ کے باعث چار دن میں ایئرلائنز کو کھربوں کا نقصان

