آئی ایم ایف کی جانب سے ایک بار پھر بڑا مطالبہ سامنے آگیا
2024 کے اختتام تک سپیکو کی نقصانات 30 ارب روپے کا اضافہ ہوا جبکہ حیسکو کے نقصانات کا حجم 488 ارب روپے ہے
عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف)نے سکھر الیکٹرک اور حیدرآباد الیکٹرک کی نج کاری کا عمل بروقت مکمل کرنے کا مطالبہ کردیا ہے، جس کے بعد وفاقی حکومت دونوں کی نجکاری کے لیے متحرک ہوگئی ہے۔
ذرائع کے مطابق سکھر الیکٹرک سپیکو اور حیدر آباد الیکٹرک حیسکو کے لیے مالیاتی مشیران کو اہداف بروقت مکمل کرنے کی ہدایت کر دی گئی ہے جبکہ دونوں کی نجکاری کے لیے مالیاتی مشیران کا تقرر 2025 نومبر میں کیا گیا تھا۔
سیپکو اور حیسکو کی نجکاری کے لیے مالیاتی مشیران کو ابتدائی طور پر چار اہداف دیئے گئے ہیں جس میں سیپکو اور حیسکو کی انسپکشن رپورٹ کا ابتدائی مسودہ تیار کرنا، سیکٹورل ڈیو ڈیجیلنس رپورٹ دونوں سے متعلق مارکیٹ کی تفصیلی جائزہ رپورٹ اور سیپکو اور حیسکو سے متعلق عالمی تجربات سے فائدہ اٹھانے سے متعلق بھی رپورٹ تیار کرنا شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: 2030 تک پاکستانی برآمدات کے حوالے سے آئی ایم ایف کی بڑی پیشگوئی
ذرائع کا کہنا ہے کہ مالیاتی مشیران نے انسپکشن رپورٹ اور ڈیو ڈیجیلنس رپورٹ کے بارے میں کئی مراحل طے کرلیے ہیں جبکہ حیسکو اور سپیکو کی نجکاری سے متعلق مالیاتی مشیران کو اپنی رپورٹس جلد از جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
سپیکو کے ترسیلی نقصانات 35 فیصد کے لگ بھگ ہیں آئی ایم ایف کے مطابق سپیکو اور حیسکو کو فوری ازسرنو بحالی اور نجکاری کی ضرورت ہے۔
وزارت خزانہ کی ایس او ایز رپورٹ کے مطابق 2024 کے اختتام تک سپیکو کی نقصانات 30 ارب روپے کا اضافہ ہوا جبکہ حیسکو کے نقصانات کا حجم 488 ارب روپے ہے۔

