توانائی بحران، ایشیائی ممالک کووڈ طرز کا لاک ڈاؤن لگانے کے فیصلے کرنے پر مجبور

لاک ڈاؤن.webp


توانائی بحران، ایشیائی ممالک کووڈ طرز کا لاک ڈاؤن لگانے کے فیصلے کرنے پر مجبور

جکارتہ، منیلا اور بنکاک جیسے شہروں میں عوامی ٹرانسپورٹ کے استعمال کو فروغ دینے کی تجویز دی جا رہی ہے

امریکہ-اسرائیل-ایران جنگ کے باعث پیدا ہونے والے توانائی بحران نے ایشیائی ممالک کو ایک بار پھر ایسے اقدامات اپنانے پر مجبور کر دیا ہے جو کورونا وبا کے دوران دیکھے گئے تھے۔

رپورٹس کے مطابق آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد تیل اور گیس کی عالمی سپلائی متاثر ہوئی ہے، جس سے ایشیائی ممالک کی معیشتوں پر شدید دباؤ پڑا ہے، کیونکہ خطے کا تقریباً 80 فیصد خام تیل اور ایل این جی اسی راستے سے گزرتا ہے۔

فلپائن میں حکومت نے توانائی کی صورتحال کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے ہنگامی حالت نافذ کر دی ہے۔

ملک میں صرف 45 دن کا ایندھن ذخیرہ باقی ہونے کے باعث حکومت نے پبلک ٹرانسپورٹ ورکرز کے لیے مالی امداد اور سرکاری اداروں میں چار روزہ ورک ویک جیسے اقدامات شروع کیے ہیں۔

اسی طرح پاکستان نے توانائی بچت کے لیے سرکاری ملازمین کے لیے ہاف ٹائم ریموٹ ورک اور تعلیمی اداروں کی دو ہفتے بندش جیسے اقدامات کیے ہیں۔

سری لنکا میں تعلیم، انتظامیہ اور ٹرانسپورٹ سے وابستہ افراد کے لیے درمیانی ہفتے کی چھٹی نافذ کی گئی ہے، جبکہ لاوس، ویتنام اور تھائی لینڈ میں آن لائن ورک اور گھر سے کام کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے تاکہ توانائی کی کھپت کم کی جا سکے۔

انڈونیشیا میں حکومت ایک ہفتے میں ایک دن ورک فرام ہوم کی پالیسی پر غور کر رہی ہے، جس کے ذریعے اندازاً 20 فیصد تک ایندھن کی بچت ممکن ہے۔

ماہرین کے مطابق ان اقدامات سے نہ صرف توانائی کی بچت ہوگی بلکہ بڑے شہروں میں ٹریفک کے مسائل اور ماحولیاتی آلودگی میں بھی کمی آ سکتی ہے۔

جکارتہ، منیلا اور بنکاک جیسے شہروں میں عوامی ٹرانسپورٹ کے استعمال کو فروغ دینے کی تجویز دی جا رہی ہے۔

ماہرین معیشت کا کہنا ہے کہ حکومتوں کو فوسل فیول سے قابل تجدید توانائی کی طرف منتقلی کو تیز کرنا چاہیے تاکہ آئندہ اس طرح کے بحرانوں سے بچا جا سکے۔



Source link

متعلقہ پوسٹ