پاکستان نے آپریشن "غضب للحق” دوبارہ شروع کر دیا

IMG 20260326 WA2039


عید الفطر کے موقع پر عارضی توقف کے بعد فوجی کارروائی بحال
اسلام آباد/کابل (26 مارچ 2026): پاکستان نے افغانستان میں آپریشن غضب للحق دوبارہ شروع کر دیا ہے۔ عید الفطر کے دوران دوست ممالک (سعودی عرب، قطر اور ترکی) کی درخواست پر عارضی سیز فائر کا اعلان کیا گیا تھا، جو اب ختم ہو چکا ہے۔
پاکستان کی وزارت خارجہ اور سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، آپریشن ایک ہدفی (targeted) فوجی مہم ہے جس کا مقصد افغان سرزمین پر چھپے تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، القاعدہ اور دیگر دہشت گرد نیٹ ورکس کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانا ہے۔ آپریشن کے تحت مشرقی صوبوں خاص طور پر کنڑ، نورستان اور دیگر علاقوں میں فضائی اور زمینی کارروائیاں دوبارہ تیز کر دی گئی ہیں۔
عید کے دوران سیز فائر 19 سے 24 مارچ تک نافذ رہا۔ پاکستان نے واضح کیا تھا کہ اگر سرحد پار سے کوئی حملہ، ڈرون حملہ یا پاکستان میں دہشت گردی کا واقعہ پیش آیا تو آپریشن فوری طور پر بحال ہو جائے گا۔ افغان طالبان کی طرف سے اب تک اس بحالی پر کوئی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا۔
وزیر دفاع خواجہ آصف اور وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری سمیت سرکاری حکام نے پہلے ہی کہا تھا کہ آپریشن صرف عید کے لیے معطل کیا گیا تھا، یہ ختم نہیں ہوا۔ پاکستان کا موقف ہے کہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے کی یقین دہانی ملنے تک آپریشن جاری رہے گا۔
اس تنازع کی وجہ سے دونوں طرف درجنوں فوجی اور شہری ہلاکتیں ہو چکی ہیں جبکہ لاکھوں افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔ اقوام متحدہ نے فوری طور پر مستقل سیز فائر اور امن معاہدے کا مطالبہ کیا ہے۔

متعلقہ پوسٹ