"کوئی جنگ بندی نہیں ہو رہی” ایران نے ٹرمپ کے دعوے کو پھر مسترد کر دیا،

IMG 20260401 WA1986


تہران (1 اپریل 2026): ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کو ایک بار پھر سختی سے مسترد کر دیا ہے کہ ایران کے نئے رہنما نے جنگ بندی کی درخواست کی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ اور وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا کہ تہران نے کسی بھی فریق کو جنگ بندی کی کوئی پیشکش نہیں کی۔
وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ جنگ اس وقت تک جاری رہے گی جب تک امریکہ اور اسرائیل کو ان کے حملوں کی سزا نہ مل جائے اور ایران کو ہونے والے تمام نقصانات کا مکمل معاوضہ ادا نہ کیا جائے۔ انہوں نے تاکید کی کہ تہران کسی بھی قسم کی جنگ بندی یا مذاکرات کی طرف نہیں بڑھ رہا۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ٹرمپ کے بیان کو "بے بنیاد اور جھوٹا” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران نے آبنائے ہرمز پر اپنا مکمل کنٹرول برقرار رکھا ہوا ہے اور اسے دشمن ممالک کے لیے محدود رکھا جائے گا۔
یاد رہے کہ کل ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران کا نیا رہنما جنگ بندی چاہتا ہے، لیکن یہ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب آبنائے ہرمز مکمل طور پر کھل جائے۔ ایران نے فوری طور پر اس دعوے کی تردید کر دی تھی اور اب دوبارہ واضح موقف اپنایا ہے۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ جنگ ختم کرنے کے لیے ان کے اپنے شرائط ہیں جن میں جنگی نقصانات کا معاوضہ، مستقبل میں حملوں کی ضمانت اور آبنائے ہرمز پر ایرانی خودمختاری کی تسلیم شامل ہیں۔

متعلقہ پوسٹ