نیتن یاہو کے خلاف کرپشن ٹرائل اتوار سے دوبارہ شروع ہوگا، ایران جنگ کے بعد عدالتی کارروائی بحال

images 11 9


یروشلم،— اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے خلاف 2020 سے جاری طویل کرپشن کیس کی سماعت اتوار 12 اپریل 2026 سے دوبارہ شروع ہو جائے گی۔
یروشلم ڈسٹرکٹ کورٹ نے تصدیق کی ہے کہ ایران کے ساتھ حالیہ جنگ کے دوران نافذ کردہ ایمرجنسی کی وجہ سے معطل سماعتیں اب بحال ہو رہی ہیں۔ عدالت کا بیان ہے کہ ”ایمرجنسی ختم ہونے اور عدالتی نظام کے معمول پر واپس آنے کے بعد سماعتیں حسبِ معمول دوبارہ شروع ہو جائیں گی“۔ سماعتیں اب اتوار سے بدھ تک ہفتے میں چار دن ہوں گی۔
اتوار کی سماعت میں ڈیفنس وٹنس کی گواہی متوقع ہے۔ مقدمہ 2020 سے چل رہا ہے اور مختلف وجوہات سے بار بار ملتوی ہوتا رہا۔
نیتن یاہو پر رشوت ستانی، دھوکہ دہی (فریڈ) اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات ہیں (کیس 1000، 2000 اور 4000)۔ وہ تمام الزامات سے انکار کرتے آئے ہیں اور انہیں سیاسی انتقام قرار دیتے ہیں۔ وہ اسرائیل کے تاریخ کے پہلے وزیراعظم ہیں جو کرپشن کے الزام میں مقدمے کی زد میں آئے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ سے نیتن یاہو کو معافی (پارڈن) دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو کو ایران سمیت دیگر سیکورٹی مسائل پر توجہ دینے کے لیے قانونی دباؤ سے آزاد ہونا چاہیے۔ انہوں نے ہرزوگ کو ”شرم کا باعث“ قرار دیا ہے۔ تاہم اب تک پارڈن نہیں دیا گیا اور قانونی کارروائی جاری ہے۔
یہ کیس اسرائیلی سیاست میں انتہائی اہم ہے۔ مخالفین اسے احتساب سمجھتے ہیں جبکہ نیتن یاہو اسے سیاسی سازش قرار دیتے ہیں۔ سماعت کے نتائج اور پارڈن کے حوالے سے مزید پیشرفت کی توقع ہے۔

متعلقہ پوسٹ