اسلام آباد: برطانوی خبر ایجنسی رائٹرز نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ امریکا اور ایران کے مذاکراتی وفود رواں ہفتے کے آخر یا اگلے ہفتے کے آغاز میں امن مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے اسلام آباد واپس آ سکتے ہیں۔
یہ پیش گوئی اس وقت سامنے آئی ہے جب گزشتہ ہفتے کے آخر میں اسلام آباد میں دونوں ملکوں کے درمیان دہائیوں بعد ہونے والے اعلیٰ ترین سطح کے مذاکرات بغیر کسی حتمی معاہدے کے ختم ہوئے۔ یہ بات چیت رات بھر جاری رہی اور بعض اوقات تناؤ کا شکار بھی رہی، تاہم ذرائع کے مطابق بات چیت کا دروازہ اب بھی کھلا ہے۔
ایرانی سفارتخانے کے ایک اہلکار نے رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "اگلے دور کی بات چیت اس ہفتے کے آخر یا اگلے ہفتے کے ابتدائی دنوں میں ہو سکتی ہے”۔
پاکستانی ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں فریقوں کو ایک تجویز بھیجی گئی ہے جس کے تحت وفود جلد از جلد اسلام آباد واپس آ کر مذاکرات دوبارہ شروع کر سکتے ہیں۔
اس سے قبل امریکی اور پاکستانی عہدیداروں نے بھی مذاکرات کے دوسرے مرحلے کی میزبانی کی تصدیق کی تھی۔ یاد رہے کہ ۱۱ اپریل ۲۰۲۶ کو اسلام آباد میں ہونے والے پہلے دور کے مذاکرات میں امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وانس، جبکہ ایرانی وفد کی قیادت پارلیمانی اسپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کی تھی۔
پاکستان نے دونوں ملکوں کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کیا ہے اور یہ مذاکرات مشرق وسطیٰ میں چھ ہفتوں کی جنگ کے بعد طے پانے والے عارضی سیز فائر کو مستقل بنانے کے لیے اہم سمجھے جا رہے ہیں۔

