چین نے مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے چار نکاتی تجویز پیش کر دی

IMG 20260414 WA1879


"دنیا کو جنگل کے قانون کی طرف واپس جانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی” — چینی صدر شی جن پنگ
بیجنگ: چینی صدر شی جن پنگ نے مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے چار نکاتی تجویز پیش کر دی ہے۔ یہ تجویز متحدہ عرب امارات کے ولی عہد شیخ خالد بن محمد بن زاید آل نہیان سے ملاقات کے دوران پیش کی گئی۔
صدر شی جن پنگ نے ملاقات میں کہا کہ "دنیا کو ‘جنگل کے قانون’ کی طرف واپس جانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ طاقتور کا قانون نہیں چل سکتا، بلکہ بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کی پاسداری ضروری ہے۔”
چار نکاتی تجویز کے اہم پہلو یہ ہیں:
پرامن بقائے باہمی کا اصول: مشرق وسطیٰ کے ممالک کو ایک دوسرے کے ساتھ پرامن طور پر رہنے اور اختلافات کو مکالمے کے ذریعے حل کرنے پر زور۔
ممالک کی خودمختاری کا مکمل احترام: خلیجی ممالک سمیت تمام ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کیا جائے، کسی بھی ملک کے اندرونی امور میں مداخلت نہ کی جائے۔
سیز فائر اور شہریوں کی حفاظت: فوری سیز فائر کو یقینی بنانا اور عام شہریوں کی حفاظت کو ترجیح دینا۔
مشترکہ، جامع، تعاون پر مبنی اور پائیدار سلامتی کا ڈھانچہ: مشرق وسطیٰ میں ایک جامع سلامتی کے نظام کی تعمیر جس میں تمام ممالک شامل ہوں اور علاقائی تعاون کو فروغ ملے۔
چینی صدر نے زور دیا کہ خلیجی ممالک کی خودمختاری کا مکمل احترام کیا جانا چاہیے اور علاقائی مسائل کا حل صرف سیاسی اور سفارتی ذرائع سے ممکن ہے۔
یہ تجویز حالیہ امریکا-ایران کشیدگی، اسرائیل-حماس تنازع اور مشرق وسطیٰ میں جاری غیر یقینی صورتحال کے تناظر میں سامنے آئی ہے۔ چین نے خود کو ایک تعمیری کردار ادا کرنے والا ملک قرار دیا ہے۔

متعلقہ پوسٹ