کے پی حکومت کا اہم فیصلہ: خواتین کے مقدمات کیلئے صرف خواتین افسران مقرر کرنے کا اعلان

IMG 20260415 WA2317


پشاور (15 اپریل 2026) — خیبر پختونخوا حکومت نے خواتین کے مقدمات اور حساس کیسز کی تحقیقات میں ایک تاریخی اور اہم فیصلہ کرتے ہوئے صرف خواتین پولیس افسران کی تعیناتی کا اعلان کر دیا ہے۔
نئے فیصلے کے مطابق:
پردہ نشین اور حساس کیسز میں خواتین کے بیانات ریکارڈ کرنے، تفتیش اور مقدمات کی کارروائی کیلئے مرد اہلکاروں کی تعیناتی پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
اب ایسے تمام کیسز میں خواتین پولیس افسران اور خاتون سب انسپکٹرز ہی ذمہ دار ہوں گی۔
ابتدائی مرحلے میں یہ نوٹیفکیشن پشاور میں نافذ العمل ہوگا، جس کے بعد صوبے کے دیگر اضلاع میں بھی اسے مرحلہ وار लागو کیا جائے گا۔
خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے اس فیصلے کی منظوری دی ہے۔ محکمہ داخلہ کے مطابق اس اقدام کا مقصد خواتین کے ساتھ پیش آنے والی زیادتیوں کو روکنا، ان کی پرائیویسی کا تحفظ کرنا اور مقدمات میں زیادہ شفافیت اور اعتماد پیدا کرنا ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ پردہ نشین خواتین اکثر مرد اہلکاروں کے سامنے بیان دینے سے گریز کرتی ہیں، جس کی وجہ سے بہت سے کیسز درست طور پر ریکارڈ نہیں ہو پاتے۔ نئی پالیسی سے خواتین متاثرین کو زیادہ آسانی اور اعتماد کے ساتھ انصاف ملنے کی امید ہے۔
یہ فیصلہ صوبے میں خواتین کے حقوق اور انصاف کی فراہمی میں ایک بڑا قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

متعلقہ پوسٹ