پاکستان کا جگرا دیکھو!

IMG 20260415 WA2009

تحریر: سینئر صحافی عارف انیس

آج فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، جنگی وردی میں تہران میں اترے ہیں اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ہوائی اڈے پر استقبال کیا. اس خبر میں وہ سب کچھ ہے جو سفارتکاری کی نصابی کتابوں میں نہیں ملتا۔

ایک فوجی سربراہ، دنیا کی واحد اسلامی ایٹمی طاقت کا۔ ایسے ملک کی فضائی حدود میں داخل ہوا ہے جس پر بیک وقت دو ایٹمی طاقتیں حملہ آور ہیں۔ جس کا رہبر اعلیٰ مارا جا چکا ہے۔ جس کے فوجی سربراہ مارے جا چکے ہیں۔ جس کا نیا رہبر زخمی ہے اور زیر زمین ہے۔ جس کی فضائی حدود میں امریکی اور اسرائیلی طیارے گشت کرتے ہیں۔ اس فضائی حدود میں پاکستان کا فیلڈ مارشل کیموفلاج وردی میں اترا ہے۔

تاریخ میں ایسا کب ہوا ہے؟

1943 میں ونسٹن چرچل جنگ کے عین دوران ماسکو گیا تھا۔ جرمن فضائیہ مشرقی محاذ پر بم گرا رہی تھی۔ سوویت یونین لڑ رہی تھی۔ چرچل نے خطرہ مول لیا کیونکہ پیغام ذاتی طور پر پہنچانا تھا: "ہم تمھارے ساتھ ہیں۔” وہ طیارے میں مصر سے ماسکو گیا۔ راستے میں جرمن لڑاکا طیاروں کا خطرہ تھا۔ مگر گیا۔ کیونکہ سٹالن کو بتانا تھا: "دوسرا محاذ کھولیں گے۔” اعتماد سازی کے لیے جسمانی موجودگی ضروری تھی۔ فون سے نہیں ہوتی تھی۔ خط سے نہیں ہوتی تھی۔ صرف آمنے سامنے بیٹھ کر ہوتی تھی۔

2018 میں جنوبی کوریا کے صدر مون جے ان پیدل چل کر شمالی کوریا کی سرحد عبور کر گئے تھے۔ دنیا کی سب سے بھاری مسلح سرحد۔ دونوں ممالک تکنیکی طور پر جنگ میں ہیں۔ مون نے کم جونگ ان کا ہاتھ پکڑا اور سرحدی لکیر عبور کی۔ وہ تصویر تاریخ بن گئی۔ ٹرمپ سنگاپور سمٹ اسی تصویر کے بعد ممکن ہوا۔

آج عاصم منیر نے وہی کیا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ ایران پر حقیقی جنگ ہو رہی ہے۔ فرضی نہیں۔ تکنیکی نہیں۔ حقیقی بم گر رہے ہیں۔ حقیقی لوگ مر رہے ہیں۔ ایرانی فضائی حدود امریکی اور اسرائیلی نشانے پر ہے۔ اور اس فضائی حدود میں پاکستان کا فیلڈ مارشل داخل ہوا ہے۔ دورہ براڈکاسٹ ہوا ہے، تصویریں اتری ہیں اور یہ سب واضح پیغام ہیں.

سفارتکاری میں اعتماد سازی کئی سطحوں پر ہوتی ہے۔ سب سے نچلی سطح: پیغام بھیجنا۔ فون کرنا۔ خط لکھنا۔ درمیانی سطح: سفیر بھیجنا۔ وزیر خارجہ بھیجنا۔ بلند ترین سطح: خود جانا۔ اور سب سے بلند ترین سطح: خطرے میں خود جانا۔ جب آپ دشمن کی فائرنگ رینج میں داخل ہو کر دوست سے ملیں تو آپ اعتماد نہیں بنا رہے، آپ اعتماد بن جاتے ہیں۔

منیر جنگی وردی میں تہران اترے ہیں۔ یہ وردی اتفاقی نہیں ہے۔ 11 اپریل کو اسلام آباد میں ایرانیوں کا استقبال بھی جنگی وردی میں کیا تھا اور 12 اپریل کو وینس سے ملاقات سول سوٹ میں کی تھی۔ وردی کا انتخاب شعوری ہے.

ایران کی قیادت زیر زمین ہے۔ مجتبیٰ خامنہ ای عوام کے سامنے نہیں آ سکتے. اس ماحول میں ایرانی قیادت کے لیے کسی سے ملنا خود میں خطرہ ہے۔ ہر ملاقات ممکنہ لیک ہے۔ ہر لیک ممکنہ ہدف بنانے کا ذریعہ ہے۔مگر منیر آیا ہے۔ اور اس کے آنے کا مطلب ہے: "جب تک میں آپ کی سرزمین پر ہوں، آپ محفوظ ہیں۔ کوئی اسرائیلی یا امریکی حملہ نہیں ہو گا۔ کیونکہ اگر حملہ ہوا تو پاکستان کا فیلڈ مارشل بھی نشانے پر ہو گا۔ اور دنیا کی واحد اسلامی ایٹمی طاقت کے فوجی سربراہ کو نشانہ بنانا وہ سرخ لکیر ہے جو کوئی عبور نہیں کرے گا۔”

یہ انسانی ڈھال نہیں ہے۔ یہ اسٹریٹیجک ڈھال ہے۔ منیر کی تہران میں موجودگی ایران کو وہ سیکورٹی بلینکٹ فراہم کرتی ہے جو کوئی قرارداد، کوئی بیان، کوئی فون کال فراہم نہیں کر سکتی۔ ایرانی قیادت اپنی خفیہ کمین گاہوں سے باہر نکل کر منیر سے مل سکتی ہے کیونکہ اسے معلوم ہے کہ جب تک پاکستانی فیلڈ مارشل ایرانی سرزمین پر ہے، کوئی میزائل نہیں آئے گا۔

بین الاقوامی پروٹوکول کے مطابق کسی ملک کا فوجی سربراہ کسی ایسے ملک کا دورہ نہیں کرتا جو فعال جنگ میں ہو۔ وجوہات واضح ہیں: سیکورٹی خطرہ، غیرجانبداری پر سوال، اور حملہ آور فریق کو اشتعال۔ مگر منیر نے یہ سب پروٹوکول توڑ دیے ہیں۔ کیونکہ پروٹوکول عام حالات کے لیے ہوتے ہیں اور یہ عام حالات نہیں ہیں۔

منیر تہران میں وہ کام کر رہا ہے جو فون سے نہیں ہو سکتا: ایرانی قیادت سے آمنے سامنے بیٹھ کر، ان کی آنکھوں میں دیکھ کر، ان کے خدشات سن کر، ان کی سرخ لکیریں سمجھ کر، اور پھر واپس جا کر ٹرمپ کو بتانا کہ ایران کہاں تک آ سکتا ہے اور کہاں نہیں آئے گا۔ یہ وہ کام ہے جو ثالث خود کرتا ہے۔ قاصد نہیں بھیجتا۔ خود جاتا ہے۔

سفارتکاری میں ایک اصول ہے جو نصابی کتابوں میں نہیں لکھا مگر ہر تجربہ کار سفارت کار جانتا ہے: "جب آپ ثالث ہوں اور اپنی جان خطرے میں ڈال کر دو آپس میں دشمنوں میں سے کسی ایک دشمن کے گھر جائیں تو آپ ثالث نہیں رہتے، آپ ضامن بن جاتے ہیں۔”

پاکستان، جو کچھ کرکے دکھا رہا ہے، اس سب کے لیے بڑا جگرا چاہیے. منیر آج ضامن بن گیا ہے۔ پاکستان ضامن بن گیا ہے۔ اسلام آباد پراسیس ضامن بن گیا ہے اور انشاء اللہ یہ علاقائی اور عالمی امن کے لیے اچھی خبر ہے. اب اللہ کرے، یہ اسلام آباد اکارڈ باقاعدہ ایک معاہدے کی شکل اختیار کرے اور اس کے ثمرات پاکستانی عوام تک پہنچ سکیں.

متعلقہ پوسٹ