سپریم کورٹ کا پی آئی اے کو 24 سال کی پنشن ادا کرنے کا حکم، ایم ڈی ذاتی حیثیت میں پیش ہوں گے اگر ادائیگی نہ ہوئی

IMG 20260415 WA2314


اسلام آباد (15 اپریل 2026) — پاکستان کی سپریم کورٹ نے قومی ایئرلائن پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کو ایک سابق ملازم مصطفیٰ انصاری کو 24 سال کی بقایا پنشن فوری طور پر ادا کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ عدالت نے واضح ہدایت کی کہ اگر اگلی سماعت سے قبل یہ ادائیگی نہ کی گئی تو پی آئی اے کے مینجنگ ڈائریکٹر کو ذاتی حیثیت میں عدالت میں پیش ہونا پڑے گا۔
درخواست گزار مصطفیٰ انصاری نے بتایا کہ انہیں 2002 میں ایک اسکیم کے تحت ریٹائر کیا گیا تھا۔ سندھ ہائی کورٹ کے حکم کے بعد پنشن اور دیگر فوائد منظور ہوئے، مگر گزشتہ 24 برس کی پنشن کی ادائیگی اب تک نہیں ہو سکی۔
جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی اور پی آئی اے کو فوری ادائیگی کی ہدایت کی۔ عدالت نے پنشن کو ملازم کا قانونی حق قرار دیا اور کہا کہ یہ کسی احسان یا خیرات کی شکل نہیں ہے۔
پی آئی اے کی مالی مشکلات کے باوجود عدالت نے سابق ملازمین کے حقوق کی حفاظت پر زور دیا۔ کیس کی اگلی سماعت 23 اپریل 2026 کو ہوگی۔
یہ فیصلہ پاکستان میں پنشن حقوق کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔

متعلقہ پوسٹ