وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے، تاہم پاکستان ان ابتدائی اثرات کو مؤثر انداز میں سنبھال رہا ہے۔
چین کے ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ حکومت مہنگائی کے دباؤ کو کم کرنے کے لیے ٹارگٹڈ سبسڈی فراہم کر رہی ہے۔ ان کے مطابق ٹرانسپورٹ، زراعت اور کم آمدنی والے طبقے کے لیے خصوصی اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ عوام کو ریلیف دیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معیشت عالمی دباو کے باوجود اس وقت مستحکم ہے، ترسیلاتِ زر میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جبکہ کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس بھی حاصل ہوا ہے۔ وزیر خزانہ کے مطابق رواں مالی سال کے دوران معاشی شرح نمو تقریباً 4 فیصد رہنے کی توقع ہے۔
محمد اورنگزیب نے خبردار کیا کہ اگر عالمی کشیدگی طویل عرصے تک برقرار رہی تو مہنگائی، برآمدات اور مجموعی معاشی صورتحال متاثر ہو سکتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے قابلِ تجدید توانائی اور جدید ٹیکنالوجی پر توجہ دے رہا ہے جبکہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے دوسرے مرحلے میں صنعتی اور زرعی تعاون کو فروغ دیا جا رہا ہے۔

