نئی دہلی — بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو اس وقت بڑا سیاسی دھچکا لگا جب پارلیمنٹ میں خواتین کے لیے 33 فیصد نشستیں مخصوص کرنے کا بل مطلوبہ ووٹ حاصل نہ کر سکا اور ناکام ہو گیا۔
اس متنازعہ بل میں پارلیمانی نشستوں کی تعداد موجودہ 543 سے بڑھا کر 800 سے زائد کرنے کی تجویز بھی شامل تھی، جسے اپوزیشن کی شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔
اپوزیشن جماعتوں نے حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ خواتین کے حقوق کے نام پر پارلیمنٹ کی تشکیل نو دراصل برسراقتدار بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو فائدہ پہنچانے کی چال ہے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ نشستوں میں اضافے کا منصوبہ خواتین کی نمائندگی بڑھانے کی نیک نیتی نہیں بلکہ مودی کی سیاسی گرفت مضبوط کرنے کی حکمت عملی ہے۔
یہ بل کی ناکامی مودی حکومت کی نادر قانون سازی شکستوں میں شمار ہوتی ہے اور دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت میں صنفی مساوات اور سیاسی اصلاحات کی بحث کو ایک بار پھر ہوا دے گئی ہے۔

