نیویارک: امریکی اخبار دی وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے خلاف جارحانہ اور سخت بیانات بظاہر شدید نظر آتے ہیں، مگر یہ دراصل ایک سوچی سمجھی نفسیاتی حکمت عملی کا حصہ ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ٹرمپ کے عوامی بیانات اور بند کمرے میں ہونے والے فیصلوں میں واضح فرق ہے۔ سرکاری ذرائع کے حوالے سے کہا گیا کہ اصل مقصد جنگ نہیں بلکہ ایران کو ایک جامع سفارتی ڈیل پر مجبور کرنا ہے۔
ٹرمپ کی حکمت عملی میں جارحانہ دھمکیوں (جیسے ایرانی انفراسٹرکچر پر بڑے حملوں کی وارننگ) اور نرم رویے کے درمیان توازن قائم کیا جاتا ہے تاکہ ایرانی فریق دباؤ میں آ کر بات چیت کی میز پر زیادہ سے زیادہ رعایت دے۔
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق ٹرمپ پیچھے سے معاملے کو احتیاط سے دیکھ رہے ہیں اور جنگ کی توسیع سے گریز کرنا چاہتے ہیں۔ ان کا مقصد جلد از جلد ایک معاہدہ طے کرنا ہے، خاص طور پر جب دو ہفتوں کی جنگ بندی ختم ہونے والی ہے اور خلیج عمان میں جہازوں کی نقل و حرکت متاثر ہو رہی ہے۔
یہ رپورٹ اس وقت سامنے آئی ہے جب خلیج عمان میں ایرانی جہاز ’توسکا‘ پر امریکی کارروائی کے بعد علاقائی کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے اور اسلام آباد میں طے شدہ مذاکرات پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔

