تہران: ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ جنگ کسی کے مفاد میں نہیں ہوتی اور موجودہ کشیدگی کو کم کرنے کے لیے ہر معقول اور سفارتی راستہ اختیار کیا جانا چاہیے۔
پیر کے روز وزارت انصاف کے دورے کے دوران گفتگو کرتے ہوئے صدر پزشکیان نے کہا: ”جنگ کسی کے فائدے میں نہیں ہوتی۔ خطرات کے مقابلے میں مضبوط موقف ضروری ہے، لیکن کشیدگی کم کرنے کے لیے ہر معقول اور سفارتی راستہ اختیار کیا جانا چاہیے۔“ انہوں نے مزید کہا کہ دشمن پر عدم اعتماد اور تعاملات میں ہوشیاری ناگزیر ہے۔
صدر نے عوام کے ساتھ شفافیت پر بھی زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایرانی عوام کو ملک کی حقیقی صورتحال سے باخبر رکھنا ضروری ہے۔ غلط معلومات فراہم کرنا یا غیر حقیقی وعدے کرنا نہ صرف مسائل کے حل میں مددگار نہیں ہوتا بلکہ عوامی اعتماد کو بھی مجروح کرتا ہے۔
انہوں نے کہا: ”کامیابیوں اور چیلنجز دونوں کو دیانت داری کے ساتھ عوام کے سامنے رکھا جانا چاہیے تاکہ اعتماد قائم رہے اور مسائل کا مؤثر حل ممکن ہو سکے۔“
یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب امریکی افواج نے خلیج عمان میں ایرانی جہاز ’توسکا‘ پر حملہ کر کے اسے ضبط کر لیا، جس سے اسلام آباد میں طے شدہ مذاکرات اور دو ہفتوں کے سیز فائر کی مدت پر شدید اثرات پڑنے کا اندیشہ پیدا ہو گیا ہے۔

