ماسکو: روس نے ایران کے افزودہ یورینیم کو منتقل کرنے میں ایک بار پھر مدد کی پیشکش کر دی ہے۔ روسی ریاستی جوہری توانائی کمپنی روساٹم (Rosatom) کے سربراہ الیکسی لیکاچیف نے کہا ہے کہ روس اس معاملے میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔
انہوں نے بتایا کہ تکنیکی مسائل کے ساتھ ساتھ امریکا اور ایران کے درمیان اعتماد کا فقدان بڑا مسئلہ ہے۔ روس 2015 کے جوہری معاہدے کے دوران بھی ایران کے افزودہ یورینیم کی منتقلی میں مدد کر چکا ہے اور اب بھی اس کے لیے تیار ہے۔
روس کی یہ پیشکش امریکہ اور ایران کے ممکنہ مذاکرات کے تناظر میں سامنے آئی ہے۔ روس کا کہنا ہے کہ وہ ایران کے افزودہ یورینیم کو اپنی سرزمین پر منتقل کر سکتا ہے، اسے ایندھن کی سطح پر تبدیل کر سکتا ہے یا ایران کے لیے قابل قبول طریقے سے اس کا حل نکال سکتا ہے۔
اب تک امریکہ کی جانب سے اس پیشکش کو مسترد کرنے کی رپورٹس سامنے آ چکی ہیں، جبکہ ایران نے کہا ہے کہ کوئی بھی فیصلہ امریکہ کے ساتھ معاہدے پر منحصر ہوگا۔

