سیف سٹی بہاولنگر: تحفظ یا آزمائش؟

IMG 20260217 WA0652 3

کالم نگار: محمد شہزاد بھٹی

​بہاولنگر کی تاریخ میں 12 مئی 2026 کا دن ایک ایسی بڑی تبدیلی کا استعارہ بننے جا رہا ہے جس کے اثرات ہر شہری کی زندگی پر مرتب ہوں گے، جہاں "شہرِ وفا” کی اہم شاہراہوں، مصروف چوراہوں اور تمام داخلی و خارجی راستوں پر "سیف سٹی پراجیکٹ” کے تحت انتہائی جدید اور ہائی میگا پکسل کیمرے نصب کر دیے گئے ہیں۔ یہ کیمرے اپنی وسیع رینج اور شفاف رزلٹ کی بدولت اتنے طاقتور ہیں کہ اب کسی بھی خلاف ورزی کرنے والے کا ان کی عقابی نظر سے بچنا تقریباً ناممکن ہوگا، جس کا بنیادی مقصد شہر میں وارداتوں کی روک تھام، سٹریٹ کرائمز کا خاتمہ اور کریمنلز کی فوری شناخت کو ممکن بنانا ہے، مگر اس نظام کے ساتھ منسلک "ای چالان” کا خودکار طریقہ کار کئی سوالات کو بھی جنم دے رہا ہے۔ بظاہر یہ ایک جدید اور ترقی یافتہ معاشرے کی طرف بڑھتا ہوا قدم ہے، لیکن آج بہاولنگر کی فضاؤں میں یہ بحث عام ہے کہ کیا یہ ٹیکنالوجی واقعی عوامی تحفظ کے لیے استعمال ہوگی یا پھر پہلے سے مہنگائی اور معاشی بدحالی کے بوجھ تلے دبے ہوئے عام آدمی کے لیے ایک نئی آزمائش ثابت ہوگی، کیونکہ اس نئے ڈیجیٹل نظام کے تحت ون وے کی خلاف ورزی، ہیلمٹ کا استعمال نہ کرنا، غلط سائیڈ ڈرائیونگ اور غیر نمونہ نمبر پلیٹ جیسی کوتاہیوں پر موٹر سائیکل سواروں کو 1000 سے 3000 روپے تک کے بھاری جرمانے کیے جائیں گے۔ اسی طرح گاڑی چلانے والوں کو سیٹ بیلٹ کی پابندی نہ کرنے اور اوور سپیڈنگ پر بلا تفریق چالان کی رسیدیں براہِ راست ان کے گھروں کے پتے پر موصول ہوں گی، جو کہ ایک ایسے وقت میں جب ایک مزدور، رکشہ ڈرائیور یا دیہاڑی دار شخص بمشکل اپنے گھر کا چولہا جلاتا ہے، اس کے لیے کسی بڑے معاشی صدمے سے کم نہیں ہوگا۔ اس نازک صورتحال میں جہاں انتظامیہ پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے، وہیں شہریوں، بالخصوص والدین کا بھی یہ فرض ہے کہ وہ اپنے بچوں کو گھر سے نکلتے وقت ہی ٹریفک قوانین کی مکمل پاسداری کا درس دیں تاکہ وہ کسی بھی ناگہانی پریشانی سے محفوظ رہ سکیں۔ قانون کا اصل مقصد صرف جرمانوں کے ذریعے ریونیو اکٹھا کرنا نہیں بلکہ انسانی جانوں کا تحفظ ہونا چاہیے، اس لیے انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ اس نظام کے نفاذ میں سختی کے ساتھ عوامی آگاہی اور رہنمائی کو بھی مدنظر رکھے تاکہ عوام میں احساسِ محرومی کے بجائے شہری ذمہ داری کا احساس بیدار ہو۔ یاد رہے کہ ایک محفوظ، منظم اور مثالی شہر صرف جدید مشینوں اور کیمروں سے نہیں بنتا بلکہ اس کی بنیاد انصاف کی برابری، باہمی اعتماد اور اجتماعی شعور پر ہوتی ہے، لہذا اگر یہ نظام طاقتور اور کمزور کے فرق کو مٹا کر صرف قانون کی حکمرانی قائم کرنے میں کامیاب رہا تو یقیناً یہ بہاولنگر کے لیے ایک روشن مستقبل کی نوید ثابت ہوگا۔ اللہ تعالیٰ ہمارے پیارے شہر بہاولنگر کو امن، ترقی اور خوشحالی کا گہوارہ بنائے، ہمارے حکام کو عدل و انصاف کی توفیق دے اور ہم سب کو ایک ذمہ دار اور قانون پسند شہری کے طور پر جینے کا سلیقہ عطا فرمائے۔ آمین

متعلقہ پوسٹ