سان ڈیاگو، کیلی فورنیا
امریکی ریاست کیلی فورنیا کے شہر سان ڈیاگو میں واقع سب سے بڑی مسجد پر ہولناک مسلح حملے میں ایک سیکیورٹی گارڈ سمیت تین افراد جاں بحق ہو گئے۔ حملے کے بعد 17 اور 18 سالہ دونوں مبینہ حملہ آور قریبی گاڑی میں مردہ پائے گئے جنہوں نے بظاہر خود کو گولی مار کر خودکشی کی۔
سان ڈیاگو کے پولیس چیف اسکاٹ واہل نے تصدیق کی کہ پولیس اس واقعے کو نفرت پر مبنی جرم کے طور پر تفتیش کر رہی ہے۔ اطلاع ملتے ہی 50 سے 100 اہلکار محض چار منٹ میں مسجد پہنچ گئے اور دروازے توڑ کر سرچ آپریشن مکمل کیا۔
پولیس چیف نے شہید سیکیورٹی گارڈ کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا: "اس نے لوگوں کی جانیں بچانے میں انتہائی اہم کردار ادا کیا — وہ ایک ہیرو تھا۔”
تفتیشی حکام کے مطابق ایک حملہ آور نے ہتھیار اپنے والدین کے گھر سے چوری کیے تھے، جن میں سے ایک ہتھیار پر نفرت انگیز جملے درج تھے۔ گاڑی سے ملنے والے خودکشی نوٹ میں نسلی برتری اور سفید فام فخر کے حوالے سے باتیں تحریر تھیں۔
ایف بی آئی اور مقامی پولیس مشترکہ تحقیقات کر رہی ہے۔ مسجد کی سیکیورٹی کیمروں کی فوٹیج بھی زیرِ جائزہ ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور گورنر گیون نیوزم کو تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ صدر ٹرمپ نے کہا: "یہ انتہائی خوفناک صورتحال ہے، میری انتظامیہ اس معاملے کی کڑی نگرانی کرتی رہے گی۔”
سان ڈیاگو اسلامک سینٹر کے امام طحہٰ حسان نے کہا: "کسی بھی عبادت گاہ کو اس طرح نشانہ بنانا انتہائی شرمناک ہے۔ ہم نے یہاں کبھی ایسی تباہی نہیں دیکھی۔ ہماری دعائیں متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہیں۔”
مسلم حقوق تنظیم کیر کے مطابق یہ حملہ ایسے وقت ہوا جب امریکا میں مسلم دشمنی کی شکایات ریکارڈ سطح پر پہنچ چکی ہیں — سال 2025 میں 8,683 شکایات درج ہوئیں جو اب تک کی سب سے بڑی تعداد ہے۔

