واشنگٹن، 31 مئی 2026: امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے ایک چونکا دینے والی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ متحدہ عرب امارات نے حالیہ ایران تنازع کے دوران متعدد فضائی حملے کیے، جن میں امریکہ اور اسرائیل کی بالواسطہ شمولیت بھی رہی۔
معاملے سے واقف ذرائع کے مطابق یہ حملے جنگ کے ابتدائی دنوں میں شروع ہوئے اور جنگ بندی کے اعلان کے ایک روز بعد تک جاری رہے۔ حملوں کو مؤثر بنانے کے لیے انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ بھی کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق جن اہم مقامات کو نشانہ بنایا گیا ان میں شامل ہیں:
قشم اور ابو موسیٰ جزائر — آبنائے ہرمز کے قریب
بندر عباس — ایران کی اہم بندرگاہ
لاوان آئل ریفائنری — خلیج فارس
اسالوئیہ پیٹروکیمیکل کمپلیکس
اس رپورٹ نے خطے میں نئی سفارتی کشیدگی پیدا کر دی ہے اور سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا خلیجی ممالک علی الاعلان ایران مخالف محاذ کا حصہ بن رہے ہیں۔

