راولپنڈی کے سرکاری اسپتالوں میں ادویات کا شدید بحران، 2.2 ارب روپے کے واجبات

pakstan 0505 d


راولپنڈی — پنجاب کے راولپنڈی شہر کے تین بڑے سرکاری اسپتالوں میں ادویات کی فراہمی کیلئے 22 ارب روپے کے واجبات اور ناکافی فنڈنگ کی وجہ سے شدید مالی بحران پیدا ہو گیا ہے، جس سے ہزاروں مریضوں کو مفت ادویات اور علاج کی سہولت متاثر ہونے کا اندیشہ ہے۔
ہولی فیملی اسپتال، بینظیر بھٹو جنرل اسپتال اور راولپنڈی ٹیچنگ اسپتال پر ادویات فراہم کرنے والی کمپنیوں کے تقریباً 22 ارب روپے کے بقایاجات واجب الادا ہیں۔ بڑھتے ہوئے قرضوں کے باعث کمپنیاں اب ادویات، طبی گیسیں اور دیگر سامان ادھار پر دینے سے گریز کر رہی ہیں۔
ہولی فیملی اسپتال پر تقریباً 900 ملین روپے، بینظیر بھٹو جنرل اسپتال پر 850 ملین روپے جبکہ راولپنڈی ٹیچنگ اسپتال پر 270 ملین روپے کے واجبات ہیں۔
گذشتہ مالی سال کے آخری ہفتوں میں حکومت نے صرف 130 ملین روپے جاری کیے، جن میں ہولی فیملی کو 60 ملین، بینظیر بھٹو کو 50 ملین اور راولپنڈی ٹیچنگ اسپتال کو 20 ملین روپے دیے گئے۔
مالی سال 2025-26 میں فنڈنگ کی کمی
موجودہ مالی سال 2025-26 کے لیے بھی فنڈز کی تقسیم مایوس کن رہی ہے:
ہولی فیملی اسپتال نے 1.5 ارب روپے کا مطالبہ کیا تھا، مگر صرف 400 ملین روپے ملے۔
بینظیر بھٹو جنرل اسپتال کو بھی 1.5 ارب کے مقابلے میں 380 ملین روپے دیے گئے۔
راولپنڈی ٹیچنگ اسپتال نے 800 ملین روپے مانگے تھے، جن میں سے صرف 230 ملین روپے جاری ہوئے۔
یہ تینوں اسپتال روزانہ 10 ہزار سے زائد مریضوں کو ایمرجنسی، او پی ڈی اور وارڈ سہولیات فراہم کرتے ہیں اور مجموعی طور پر 2,580 بستروں پر مشتمل ہیں۔ یہ اسپتال اسلام آباد، آزاد جموں و کشمیر، گلگت بلتستان اور راولپنڈی ڈویژن کے دیگر علاقوں کے مریضوں کو بھی خدمات دیتے ہیں۔
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ عوامی صحت کے نظام پر بڑھتا دباؤ اور فنڈنگ کی کمی پاکستان کے پبلک ہیلتھ کیئر ڈھانچے کی پائیداری کو شدید خطرات سے دوچار کر رہی ہے۔
اس بحران نے نہ صرف مریضوں بلکہ ادویات فراہم کرنے والوں میں بھی تشویش پیدا کر دی ہے، جو مستقبل میں سپلائی متاثر ہونے کا باعث بن سکتا ہے۔

متعلقہ پوسٹ