تل ابیب | 7 جون 2026
اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد میں اقتدار کی تبدیلی کے ساتھ ہی اندرونی احتساب کا طوفان آ گیا ہے۔ نئے موساد چیف رومن گوفمین نے عہدہ سنبھالنے کے چند روز بعد ہی ادارے کے نائب ڈائریکٹر کو برطرف کر دیا ہے۔
برطرف کیے گئے اعلیٰ افسر، جن کی شناخت صرف حرف ‘A’ سے ظاہر کی گئی ہے، کو ایران میں حکومت کی تبدیلی کے لیے ایک انتہائی خفیہ اور حساس آپریشن کی نگرانی سونپی گئی تھی۔ اس مقصد کے لیے سیکڑوں خفیہ ایجنٹ اور ایک ارب شیکل سے زائد وسائل فراہم کیے گئے تھے، تاہم آپریشن اپنے مطلوبہ اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ اسرائیلی قیادت نے نتائج کو "غیر تسلی بخش اور ناقابل قبول” قرار دیا۔
یہ واحد تبدیلی نہیں — موساد کی انٹرنیشنل ریلیشنز برانچ کے سربراہ بھی اس سے قبل اچانک مستعفی ہو چکے ہیں، جو ادارے میں جاری وسیع تنظیمی ردوبدل کی نشاندہی کرتا ہے۔
‘A’ کو سابق موساد چیف ڈیوڈ بارنیہ کا سب سے پسندیدہ ممکنہ جانشین سمجھا جاتا تھا۔ بارنیہ نے گوفمین کی تقرری کی مخالفت بھی کی تھی، لیکن وزیرِاعظم بنجامین نیتن یاہو نے اپنے سابق فوجی سیکریٹری گوفمین کو یہ عہدہ سونپا۔
وزیرِاعظم کے دفتر کے بیان کے مطابق گوفمین ادارے کے اندر سے ہی نیا نائب ڈائریکٹر مقرر کریں گے تاکہ ایک مضبوط قیادتی ٹیم تشکیل دی جا سکے جو آنے والے برسوں کے چیلنجز سے نمٹ سکے۔

