واشنگٹن — کینیڈی سینٹر نے عدالتی حکم کی تعمیل میں اپنی عمارت سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا نام ہٹا دیا ہے۔ یہ اقدام اپیل کورٹ کے فیصلے کے بعد کیا گیا، جبکہ ادارے کا نام تبدیل کرنے کا تنازع تاحال عدالتوں میں زیرِ سماعت ہے۔
سی این این کے مطابق ایگزیکٹو ڈائریکٹر میٹ فلوکا نے بتایا کہ جج کے حکم کے بعد نام ہٹا دیا گیا۔ سنیچر کو مزدوروں نے کام کا آغاز کیا، اس سے قبل جمعہ کو عملے نے عمارت کے اگلے حصے کو ترپال سے ڈھانپ دیا تھا۔
یہ فیصلہ امریکی ضلعی جج کرسٹوفر کوپر نے دیا تھا، جنہوں نے کہا کہ ادارے کے نام میں تبدیلی کی اجازت صرف کانگریس دے سکتی ہے۔ اپیل کورٹ نے جمعہ کو کینیڈی سینٹر کی وہ درخواست بھی مسترد کر دی جس میں حکم پر عملدرآمد روکنے کی استدعا کی گئی تھی۔
کینیڈی سینٹر کا مؤقف ہے کہ اصل نام بحال کرنے سے عوام میں الجھن اور نجی عطیات پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔ یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب بورڈ نے مقام کو ٹرمپ کے نام سے موسوم کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
قانونی چیلنج کی قیادت رکن کانگریس جوائس بیٹی کر رہی ہیں، جنہوں نے اس پیشرفت کو خوش آئند قرار دیا اور کہا کہ حامی ادارے کی اصل شناخت کا دفاع جاری رکھیں گے۔ اس ماہ کے آخر میں مزید قانونی دلائل متوقع ہیں۔

