فوربس نے 2026ء کے سب سے زیادہ کمانے والے کانٹینٹ کریئیٹرز کی فہرست جاری کر دی ہے جس میں پہلی بار ٹاپ 50 تخلیق کاروں کی مجموعی آمدنی ایک ارب ڈالر کی تاریخی حد عبور کر گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ان 50 کریئیٹرز نے مجموعی طور پر 1.02 ارب ڈالر کمائے جو گزشتہ سال کے 853 ملین ڈالر کے مقابلے میں 20 فیصد اور 2022ء کی پہلی فہرست کے 570 ملین ڈالر کے مقابلے میں تقریباً 80 فیصد زیادہ ہیں۔
یوٹیوب اسٹار مسٹر بیسٹ 300 ملین ڈالر کی آمدنی کے ساتھ مسلسل دوسرے سال سرفہرست رہے۔ ان کا کاروباری نیٹ ورک اب صرف یوٹیوب تک محدود نہیں بلکہ میڈیا، خوراک، تجزیاتی پلیٹ فارمز اور لائسنسنگ جیسے متعدد شعبوں تک پھیل چکا ہے۔ ہندوستانی نژاد امریکی تخلیق کار دھر مین 65 ملین ڈالر کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے، جن کا اسٹوڈیو ہر ہفتے تقریباً 30 کروڑ ویوز حاصل کرتا ہے۔
ٹاپ 10 میں اسٹیون بارٹلیٹ 52 ملین ڈالر کے ساتھ تیسرے، مارکی پلائر 38 ملین ڈالر کے ساتھ چوتھے اور لنک رہیٹ 37 ملین ڈالر کے ساتھ پانچویں نمبر پر رہے۔ سابق صحافی کوڈی سانچیز نے 31 ملین ڈالر کے ساتھ چھٹا، آئی شو اسپیڈ اور مارک روبر نے 30، 30 ملین ڈالر کے ساتھ بالترتیب ساتواں اور آٹھواں مقام حاصل کیا، جبکہ ڈروسکی 20 ملین ڈالر کے ساتھ نویں اور چارلی ڈی امیلیو 18 ملین ڈالر کے ساتھ دسویں نمبر پر رہیں۔
فوربس کے مطابق کریئیٹر اکنامی اب روایتی فلمی صنعت کو بھی سخت مقابلہ دے رہی ہے۔ ڈریم ورکس کے شریک بانی جیفری کیٹزنبرگ نے اسے ”اکیسویں صدی کا اسٹوڈیو” قرار دیتے ہوئے کہا کہ دھر مین نے روایتی کہانی سنانے کے تمام پہلوؤں کو ایک نئے پلیٹ فارم پر نئے انداز میں پیش کیا ہے۔ دھر مین نے خود کہا کہ ”روایتی اسٹوڈیوز پہلے مواد بناتے ہیں اور پھر ناظرین کا انتظار کرتے ہیں، ہم پہلے ناظرین کو سنتے ہیں اور پھر ان کے لیے مواد تیار کرتے ہیں۔”
فوربس کا کہنا ہے کہ دنیا کے بڑے کریئیٹرز اب مکمل میڈیا کمپنیوں کی شکل اختیار کر چکے ہیں اور ان کی رسائی روایتی تفریحی اداروں کے برابر یا بعض صورتوں میں اس سے بھی زیادہ ہو چکی ہے۔

