27 جون 2026 | بین الاقوامی ڈیسک
اسرائیل کے سرکاری ایکس اکاؤنٹ نے بین اینڈ جیریز اسرائیل کے نئے ”Milk & Honey” آئس کریم ذائقے کی تشہیری پوسٹ شدید آن لائن ردعمل کے بعد خاموشی سے حذف کر دی۔ یہ پوسٹ 23 جون کو شیئر کی گئی تھی جس میں اس ذائقے کو اسرائیل کی ”آفیشل آئس کریم” قرار دیا گیا تھا۔
غزہ میں جاری جنگ کے تناظر میں سوشل میڈیا صارفین نے اس مہم کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ ناقدین نے اسے انسانی بحران کے دوران نامناسب تشہیر قرار دیا، جبکہ بعض صارفین نے آئس کریم کے فرضی لیبل ڈیزائن شیئر کیے جن میں طنزیہ عبارات درج تھیں۔
اسرائیلی فرنچائز کے مطابق یہ ذائقہ جنوبی اسرائیلی کسانوں اور برادریوں کی بحالی کے لیے متعارف کرایا گیا ہے۔ آئس کریم میں استعمال ہونے والا دودھ کبٹز الومیم کے ڈیری فارمز، شہد کبٹز ید مورڈیچائی سے اور چاکلیٹ بیر شیبہ کی مقامی فیکٹری سے حاصل کی جاتی ہے۔ اس کی رائلٹی جنوبی اسرائیل کی بحالی کے لیے کام کرنے والی ایالیم ایسوسی ایشن کو دی جائے گی۔
یہ تنازع اقوام متحدہ کے تحقیقاتی کمیشن کی اس رپورٹ کے فوراً بعد سامنے آیا جس میں غزہ میں فلسطینی بچوں کے خلاف سنگین خلاف ورزیوں کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔ اسرائیل نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے بے بنیاد قرار دیا ہے۔
واضح رہے کہ بین اینڈ جیریز اسرائیل 2022ء کے اس معاہدے کے بعد سے اپنی امریکی بنیادی کمپنی یونی لیور سے الگ حیثیت میں کام کر رہا ہے، جب یونی لیور نے اسرائیل میں برانڈ کے حقوق مقامی لائسنس یافتہ آوی زنگر کو فروخت کر دیے تھے۔ یہ فیصلہ خود بین اینڈ جیریز کے آزاد بورڈ کے 2021ء کے اس اعلان کے بعد ہوا تھا جس میں کمپنی نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں فروخت بند کرنے کا اعلان کیا تھا۔
برانڈ کے شریک بانی بین کوہن اور جیریز گرین فیلڈ طویل عرصے سے فلسطینی حقوق کے حامی رہے ہیں۔ کوہن نے گزشتہ برس اظہارِ یکجہتی کے طور پر تربوز کے ذائقے والی آئس کریم متعارف کرانے کا اعلان بھی کیا تھا۔
حالیہ واقعے نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ عالمی برانڈز کے مقامی لائسنس یافتہ اداروں کی تشہیری مہمات کو مادر کمپنی کی پالیسیوں سے الگ سمجھا جائے یا نہیں۔

