ٹیکساس سرکاری اسکولوں میں بائبل کی کہانیاں لازمی مطالعے میں شامل کرنے والی پہلی امریکی ریاست بن گئی

آسٹن، ٹیکساس
امریکی ریاست ٹیکساس نے سرکاری اسکولوں کے نصاب میں بائبل کی کہانیاں لازمی مطالعے کا حصہ بنا کر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ریاستی محکمۂ تعلیم کے بورڈ نے 9 کے مقابلے میں 5 ووٹوں سے ایک نئی ریاستی مطالعہ فہرست کی منظوری دی، جس کے تحت 50 لاکھ سے زائد طلبہ کے لیے بائبل کی منتخب کہانیاں اور اقتباسات لازمی نصابی مواد کا حصہ ہوں گے۔ یہ نصاب 2030 سے نافذ ہوگا۔
نئی فہرست میں چارلس ڈکنز کے ناول "Great Expectations”، جین آسٹن کی تحریروں اور نیو ٹیسٹامنٹ کے منتخب اقتباسات کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ ابتدائی جماعتوں کے طلبہ کے لیے "David and Goliath” جیسی تصویری کہانیاں جبکہ بڑی جماعتوں کے لیے بائبل کے منتخب حصے بطور ادبی و تاریخی حوالہ پڑھائے جائیں گے۔
یہ فیصلہ امریکی کلاس رومز میں مسیحی روایات کو فروغ دینے کی قدامت پسند کوششوں کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔ گزشتہ سال بھی ٹیکساس نے ہر سرکاری کلاس روم میں "Ten Commandments” آویزاں کرنا لازمی قرار دیا تھا۔
تاہم اس اقدام پر اساتذہ اور تعلیمی تنظیموں نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ڈلاس کی استاد ایلیس ڈینٹ کے مطابق غیر مسیحی اور دہریہ طلبہ کو بائبل کی کہانیاں پڑھانے سے کلاس روم میں تناؤ پیدا ہو سکتا ہے، چاہے انہیں تعلیمی تناظر میں ہی کیوں نہ پڑھایا جائے۔
دوسری جانب حامیوں کا کہنا ہے کہ یہودی-مسیحی روایات امریکی تاریخ اور ثقافت کی بنیاد کا اہم حصہ ہیں۔ ریپبلکن بورڈ کے رکن برینڈن ہال نے اس فیصلے کو "تاریخی” قرار دیا۔
تعلیمی ماہرین اور آزادیٔ اظہار کی تنظیموں نے بھی اس اقدام پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی دوسری امریکی ریاست میں لازمی مطالعہ کی فہرست میں مذہبی متون کو اس انداز میں شامل نہیں کیا گیا۔

متعلقہ پوسٹ