واشنگٹن / تل ابیب — جانوروں اور انسانوں کے درمیان رابطے کی سائنس میں ایک تاریخی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، برکلے کی ماہر حیاتیات ڈاکٹر جولی ایلی نے چھوٹے گانے والے پرندے زیبرا فنچ کی ۱۱ بنیادی آوازوں کو ڈی کوڈ کر کے یہ ثابت کر دیا کہ یہ پرندے نہ صرف آوازیں نکالتے ہیں بلکہ ان آوازوں کے معانی بھی سمجھتے ہیں۔ اس غیر معمولی تحقیق پر انہیں ۲۰۲۶ء کا وقار مند ”کولر-ڈولیٹل پرائز فار ٹو وے انٹر اسپیشیز کمیونیکیشن” اور ایک لاکھ امریکی ڈالر کا انعام دیا گیا ہے۔
ڈاکٹر ایلی نے ۱۵ سال سے زائد عرصے میں ہزاروں آوازیں ریکارڈ کیں اور مصنوعی ذہانت کی مدد سے ان میں چھپے مواصلاتی نمونوں کو دریافت کیا۔ رویہ جاتی تجربات سے ثابت ہوا کہ یہ پرندے آواز کی شکل نہیں بلکہ اس کا مفہوم ذہنی طور پر سمجھتے ہیں۔
اس سال کے مقابلے میں چمپینزی، بونوبو اور افریقی چوہوں پر تحقیق کرنے والی ٹیمیں بھی فائنلسٹ تھیں، تاہم ججوں نے ڈاکٹر ایلی کے کام کو سب سے نمایاں قرار دیا۔ یاد رہے کہ انسانوں اور جانوروں کے درمیان مکمل دو طرفہ رابطہ قائم کرنے والی ٹیم کے لیے ایک کروڑ ڈالر کے عظیم انعام کا اعلان بھی برقرار ہے۔

