کالم نگار:محمد شہزاد بھٹی
آج میں معمول سے ہٹ کر کچھ ایسی بات کرنے جا رہا ہوں جو ہمارے معاشرتی دھارے میں ایک نئے انقلابی موڑ کی نوید ہے۔ ان دنوں ممبر مینارٹی ایڈوائزری کونسل پنجاب، ساجن بھاٹیا، اقلیتی حقوق کے لیے جس والہانہ انداز میں متحرک نظر آ رہے ہیں، اس نے ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ پاکستان کے قیام سے لے کر آج تک یہاں بسنے والی اقلیتیں، بالخصوص ہندو سناتن دھرم اور والمیکی سماج، اس ارضِ پاک کا وہ ناقابلِ تردید اور مضبوط ستون ہیں جن کے بغیر پاکستان کی تعمیر و ترقی کا کوئی بھی تصور مکمل نہیں ہو سکتا، مگر المیہ یہ ہے کہ دہائیوں سے یہ طبقات اپنے بنیادی حقوق کی فراہمی کے منتظر ہیں۔ اسی پس منظر میں ساجن بھاٹیا کی جانب سے شروع کی گئی ملک گیر مہم نے ان محروم اور پس ماندہ طبقات کے دلوں میں ایک نئی امید کی شمع روشن کر دی ہے کیونکہ ان کا عزم محض روایتی سیاست کرنا نہیں، بلکہ ایک ایسا محفوظ، مستحکم اور روشن مستقبل تشکیل دینا ہے جہاں ہر شہری کو اپنے تمام تر آئینی و مذہبی حقوق بلا تفریق و امتیاز حاصل ہوں اور اسی مقصد کے حصول کے لیے ان کا سب سے اہم مطالبہ ملک بھر میں پھیلی ہوئی ہندو اوقاف کی زمینوں، مندروں اور قدیم قبرستانوں کا تحفظ اور ان کے لیے ایک خودمختار قومی کمیٹی کا قیام ہے۔ مشہور کہاوت ہے کہ ’’اپنے ہی اپنے کام آتے ہیں‘‘ مگر ساجن بھاٹیا کی فکر اس سے بھی بلند تر ہے؛ وہ پورے معاشرے میں ایک ایسا توازن قائم کرنا چاہتے ہیں جہاں ہر کوئی اپنے حقوق کا تحفظ خود کر سکے۔ ان کا یہ استدلال تاریخ کے آئینے میں بالکل درست ہے کہ جب سکھ برادری کے لیے پاکستان میں گوردوارہ پربندھک کمیٹی جیسا بااختیار ادارہ موجود ہو سکتا ہے تو آخر ہندو سناتن والمیکی سماج کو اس حق سے محروم کیوں رکھا جا رہا ہے؟ کیا وہ زمینیں جو ہمارے اجداد کی امانت تھیں، ان کا قانونی حق نہیں کہ انہیں ناجائز قبضوں سے واگزار کروا کر فلاحی کاموں کے لیے بروئے کار لایا جائے؟ دوسری جانب، مقامی سطح پر منتخب ہونے والے نمائندوں کا رویہ بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں جو ووٹ کے لیے تو دہلیزوں پر آتے ہیں مگر کامیابی کے بعد کچی بستیوں کی طرف مڑ کر بھی نہیں دیکھتے، چنانچہ آج یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ ’’کب تک یہ بے زبانی ان کی مجبوری بنی رہے گی؟‘‘ کیا اقلیتوں کا یہ حق نہیں کہ ان کے علاقوں میں سیوریج اور پانی جیسی بنیادی سہولیات میسر ہوں؟ لہٰذا مقامی ترقیاتی فنڈز میں 10 فیصد حصہ مانگنا کوئی خیرات نہیں، ان کا آئینی حق ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سرکاری ملازمتوں کے کوٹے میں اضافہ، تعلیمی وظائف کا پیکیج، خواتین کے لیے ووکیشنل سینٹرز اور مندروں کے پنڈتوں کے لیے سرکاری وظائف وقت کی اہم ترین ضرورت ہیں، کیونکہ ’’جہاں چاہ، وہاں راہ‘‘ کے مصداق اگر حکومت خلوصِ نیت سے عملی اقدامات کرے تو یہ باصلاحیت نوجوان ملکی ترقی میں شاندار حصہ ڈال سکتے ہیں۔ آخر میں، ریاستی اداروں اور مقتدر حلقوں سے ہمارا یہ سوال ہے کہ کیا ہم ایک ایسے پاکستان کے خواب کو عملی جامہ پہنا سکتے ہیں جہاں ہر مذہب کا انسان وقار کے ساتھ جی سکے؟ بلاشبہ ساجن بھاٹیا کی یہ بے لوث جدوجہد اسی حسین خواب کی تعبیر کی ایک سنجیدہ کوشش ہے؛ اللہ تعالیٰ ہمارے حکمرانوں کو توفیقِ عمل عطا فرمائے کہ وہ اقلیتوں کے حقوق کی اس جائز آواز کو سنیں اور پاکستان کو ایک ایسا پرامن گلستان بنا دیں جہاں ہر پھول اپنی خوشبو بکھیرنے میں آزاد ہو۔ آمین

