پیرس/برلن — یورپ اس وقت تاریخ کی شدید ترین گرمی کی لہر کی زد میں ہے۔ جرمنی، ڈنمارک، چیک جمہوریہ اور سوئٹزرلینڈ سمیت متعدد ممالک میں درجہ حرارت کے تمام سابقہ ریکارڈ ٹوٹ گئے ہیں جبکہ فرانس میں گرمی سے ایک ہزار سے زائد اموات کی تصدیق ہو چکی ہے۔
جرمنی کے محکمہ موسمیات کے مطابق مشرقی ریاست سیکسونی انہالٹ کے علاقے موکرن ڈریوٹز میں درجہ حرارت ۴۱ء۵ ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا جو ملکی تاریخ کا بلند ترین درجہ حرارت ہے۔ ڈنمارک میں ۱۸۷۴ء سے جاری موسمی ریکارڈ میں پہلی بار پارہ ۳۷ ڈگری تک جا پہنچا جبکہ سوئٹزرلینڈ میں جون کا نیا ریکارڈ قائم ہوا۔
فرانس میں صورتحال سب سے تشویشناک رہی۔ پبلک ہیلتھ فرانس کے مطابق ۲۴ جون سے اب تک معمول سے ایک ہزار اضافی اموات ریکارڈ کی گئی ہیں جن میں ۸۵ فیصد ۶۵ سال یا اس سے زائد عمر کے افراد تھے۔ صرف پیرس میں ایک دن کے دوران ۱۰۹ اموات ریکارڈ کی گئیں۔
اٹلی نے میلان، روم، وینس، فلورنس اور جینوا سمیت ۱۸ شہروں میں ریڈ الرٹ جاری کیا ہے۔ ملک کے سب سے بڑے دریا پو میں پانی کی سطح خطرناک حد تک گر گئی ہے جس سے زراعت اور ماحولیاتی نظام کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔
شدید گرمی نے فرانس میں ریلوے نظام، بجلی کی پیداوار اور دیگر عوامی خدمات کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے۔ کئی علاقوں میں تعلیمی سرگرمیاں معطل اور بیرونی تقریبات ملتوی کر دی گئی ہیں۔
ماہرینِ موسمیات کے مطابق یہ غیر معمولی صورتحال ‘اومیگا بلاک’ نامی فضائی نظام کے باعث پیدا ہوئی ہے جس میں گرم ہوا کا ایک بڑا دباؤ طویل عرصے تک کسی خطے پر مسلط رہتا ہے۔ آئندہ چند روز میں بعض علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

