اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے خبردار کیا ہے کہ اگر پاکستان اور ہندوستان کے درمیان سندھ طاس معاہدہ معطل رہا تو علاقائی امن پر اس کے "سنگین نتائج” برآمد ہوں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اپنے پانی کے حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
30 جون کو اسلام آباد میں ایک بین الاقوامی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے بلاول نے کہا: "ہم امن چاہتے ہیں، لیکن وقار کے ساتھ امن۔ ہم قانون کے تحت مذاکرات چاہتے ہیں۔ ہم بقائے باہمی چاہتے ہیں، لیکن محکومی نہیں۔” انہوں نے سندھ آبی نظام کو پاکستان کی بقا اور مستقبل کے لیے بنیادی قرار دیتے ہوئے کہا: "دریائے سندھ کوئی پریشر پوائنٹ نہیں۔ سندھ کوئی سودے بازی کا مہرہ نہیں۔ سندھ کوئی ہتھیار نہیں جسے ہندوستان کے ہاتھوں میں دے دیا جائے۔ دریائے سندھ پاکستان کی شہ رگ ہے۔”
بلاول نے پانی کے معاہدے کو قومی سلامتی کا معاملہ قرار دیتے ہوئے اصرار کیا کہ اس کی بحالی کے بغیر خطے میں پائیدار امن ممکن نہیں۔ ان کے بقول: "پاکستان اپنے پانی، اپنے عوام، اپنے معاہدے، اپنی خودمختاری اور اپنے مستقبل کا دفاع کرے گا۔”
پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اس وارننگ کو دہراتے ہوئے کہا کہ "مشترکہ پانیوں کو کبھی بھی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔” انہوں نے خبردار کیا کہ پانی کی تقسیم کے موجودہ انتظامات کو تبدیل کرنے کی کسی بھی کوشش کے علاقائی استحکام کے لیے "سنگین نتائج” ہوں گے۔ سابق وزیرِ خارجہ حنا ربانی کھر نے مزید کہا کہ اس معاہدے میں یکطرفہ سیاسی فیصلوں کے ذریعے ترمیم یا اسے ختم نہیں کیا جا سکتا، اور اس کے لیے دونوں حکومتوں کی منظوری درکار ہوگی۔
دوسری جانب ہندوستان کا مؤقف رہا ہے کہ 1960ء میں طے پانے والا یہ معاہدہ "پرانا” ہو چکا ہے اور اسے سرحد پار دہشت گردی کے مسئلے سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ اقوامِ متحدہ میں ہندوستان کے مستقل مشن کے فرسٹ سیکریٹری انوپم سنگھ نے کہا: "یہ منطق سے بالاتر ہے کہ ایک ایسی ریاست جو پالیسی کے ہتھیار کے طور پر دہشت گردی برآمد کرتی ہے، وہ خیر سگالی اور دوستی پر مبنی تعاون کے مراعات کا مطالبہ جاری رکھے ہوئے ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ "1960ء کے ایک معاہدے کو دائمی استحقاق نہیں مانا جا سکتا۔”

