لاہور پولیس نے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کے رشتہ دار/نواسے کو دو غیر ملکی خواتین کے مبینہ اغوا اور گینگ ریپ کے کیس میں گرفتار کر لیا

images 15 5


لاہور، پاکستان – ایک اعلیٰ پروفائل کیس نے ملک بھر میں غم و غصے اور احتساب کے مطالبات کو جنم دیا ہے۔ لاہور پولیس نے چار افراد کو گرفتار کیا ہے جن میں محمد رضا ڈار (احمد رضا ڈار کے نام سے بھی جانا جاتا ہے)، جو نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے قریبی رشتہ دار/نواسے ہیں، شامل ہیں۔ ان پر دو غیر ملکی خواتین کے اغوا، گینگ ریپ، تاوان کا مطالبہ اور بلیک میلنگ کے سنگین الزامات ہیں۔
ایف آئی آر کے مطابق، متاثرہ خواتین (نیدرلینڈز اور وینزویلا سے تعلق رکھنے والی) اکتوبر 2025 میں سنگاپور میں رضا ڈار سے ملی تھیں۔ انہوں نے انہیں پاکستان آنے کی دعوت دی، ویزہ میں مدد کی اور جون 2026 کے آخر میں لاہور ایئرپورٹ پر ان کا استقبال کیا۔
متاثرات کا الزام ہے کہ انہیں لاہور کے ڈیفنس علاقے میں ایک ویران گھر لے جایا گیا جہاں انہیں قید رکھا گیا، ننگا کیا گیا، لوٹا گیا، متعدد بار گینگ ریپ کا نشانہ بنایا گیا، ہتھیاروں سے دھمکیاں دی گئیں اور 15 لاکھ ڈالر تاوان کا مطالبہ کیا گیا۔ انہیں عضو فروش کا بھی دھمکی دی گئی۔ خواتین نے حاضر دماغی سے گاڑی کی ویڈیو بنائی اور واٹس ایپ کے ذریعے اہل خانہ کو بھیجی، جس پر غیر ملکی سفارت خانوں نے دباؤ ڈالا۔
پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے خواتین کو بازیاب کروایا اور ملزمان کو گرفتار کیا۔ عدالت نے ملزمان کو پولیس ریمانڈ پر بھیجا ہے۔ ایک ملزم فرار ہے۔ طبی معائنہ الزامات کی تصدیق کرتا ہے۔
اسحاق ڈار فیملی اور مریم نواز سے روابط کی وجہ سے کیس کو بہت توجہ ملی ہے۔ اپوزیشن اور سوشل میڈیا نے شفاف انصاف کا مطالبہ کیا ہے۔ پولیس نے کہا ہے کہ تفتیش بغیر کسی دباؤ کے جاری رہے گی۔

متعلقہ پوسٹ